پیشکش خوش آئند ہے: میر واعظ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے صدر جنرل پرویز مشرف کی ایل او سی کھولنے کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ میر واعظ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑی خوش آئین بات ہے اور ہر کشمیری اس کا خیر مقدم کرتا ہے 'بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس کی بنیاد پر 'خونی لکیر' جو کشمیریوں کے دلوں پر کھینچی گئی ہے ختم ہو'۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ تکلیف دہ حالات میں اس طرح کی پیش رفت ہوئی لیکن اسے زلزلے کا ایک چھوٹا سا مثبت پہلو کہا جا سکتا ہے کہ دوریاں کم ہوں لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لکیر کو ختم کرنے میں یہ ایک اہم قدم ہو سکتا ہے اور ہندوستان کی حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس پیشکش پر عملدرآمد کے لیے بس سروس کی طرح مشکل طریقہ کار نہیں ہوگا اور اس کو آسان بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیک پوسٹ قائم کر دی جائے جہاں سے لوگ آ جا سکیں۔ میر واعظ نے کہا کہ 'ہم سجھتے ہیں کہ اس کی شروعات عارضی بنیادوں پر ہی ہوگی لیکن توقع ہے کہ اس کا دائرہ وسیع ہو جائے گا'۔ اگر واقعہ ہی اس لکیر کو مٹانا ہے اور دوریوں کو کم کرنا ہے تو میں سمجھتا ہوں اس سے اچھا موقع دونوں حکومتوں کو نہیں ملےگا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ ذمہ داری حکومت ہندوستان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ زیادہ پابندیاں بھی انہی کی طرف سے ہیں۔ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ مظفر آباد اور سرینگر کے درمیان مواصلاتی رابطہ کھولے جائیں اور اب ہندوستان نے چار مقامات پر کال سنٹر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ابھی عام لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے مظفر آباد یا پاکستان بات کر سکیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہندوستان اس سارے معاملہ کے انسانی پہلو پر توجہ دے گا نہ کہ اس کے سیاسی پہلو پر۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے نے مسئلہ کشمیر کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ زلزلے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو ہیلی کاپٹروں کی پیشکش کی لیکن اسی وقت ٹنگڈار اور اوڑی میں ہمیں فضائیہ کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد یورپی یونین کے ایک وفد نے کہا کہ انہیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں براہ راست کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||