BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 October, 2005, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول'

پرویز مشرف
سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے اپنے خطاب میں صدر نے کہا کہ وہ بھارت کے شکر گزار ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت سے پاکستان فوجیوں کے علاوہ ہر چیز پاکستان قبول کر لے گا۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے اپنے خطاب میں صدر نے کہا کہ وہ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد دینے کی پیشکش کی ہے۔

'ہم نے کچھ بھی منع نہیں کیا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ وہ جو ہمیں تمام مدد دے رہے ہیں وہ ویلکم ہم ان کے بہت شکرگزار ہیں، وہ جتنا امدادی سامان بھیجنا چاہ رہے ہیں، ادویات بھیجنا چاہ رہے ہیں، بالکل ہم قبول کرتے ہیں۔ ہم ہر چیز قبول کرتے ہیں ہیں سوائے فوجی، فوجی ہم قبول کر سکتے اور اس بات کی انہیں سمجھ ہونی چاہیے۔اس کی حساسیت ہے، ہم لائن آف کنٹرول کے پار فوجی نہیں قبول کرتے ہیں باقی جو مرضی بھیجیں'۔

صدر نے کہا کہ انہیں کہا گیا کہ وہ (بھارت) کہہ رہے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹر دے دیں گے اور ہیلی کاپٹر پاکستانی پائلٹ اڑا لیں۔ انہوں نے کہا کہ کل جب ہم نے کہا کہ وہ ہمیں قبول ہے تو اس میں غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیں۔

صدر نے اس سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خیمے اور کمبل بڑی تعداد میں چاہیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ارتھ کوئیک ریکنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی قائم کی گئی ہے جس کا سربراہ جنرل زبیر کو مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی عمارتوں اور سکولوں اور گھروں کی دوبارہ تعمیر نو کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیزی سے دوبارہ گھر بنائیں گے۔

ہم کوئی سالوں میں گھر بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہاں اب ایسی ایسی ٹیکنولوجی آ گئی ہے جس سے چند دن میں چند گھنٹوں میں گھر بن سکتے ہیں۔ لہذا ہم ایسی ٹیکنولوجی لائیں گے جس میں ہم تیزی سے گھر بنائیں گے۔وہاں فیکٹریاں لگائیں گے اور لوگوں کو روز گار دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے اپنا تمام اضافی سامان جس میں خیمے اور کمبل ہیں وہ امدادی کاموں کے لیے دے دیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاکستانیوں نے ابھی تک چار ارب روپے کے عطیات دیے ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری نے چھے سو بیس ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ صدر کے مطابق اس پیسے میں سے ابھی ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا اور یہ پیسہ متاثرہ افراد کے گھروں کی دوبارہ تعمیر اور لوگوں کی بحالی کے کام میں خرچ کیا جائے گا۔

صدر نے کہا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا جال بچھا ہوا ہے اور ان علاقوں میں فوج کے پینتالیس مرکز بنائے گئے ہیں جہاں سے امدادی کام کو مربوط طریقے سے متاثرہ افراد میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے مالی امداد میں مزید عطیات دیں۔

صدر نے کہا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں ٹیلی مواصلات کی بحالی کا کام جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد