BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 September, 2005, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیل سےتعلقات قائم کریں گے‘
جنرل مشرف کونسل فار ورلڈ جیوری سے خطاب کے دوران
کونسل فار ورلڈ جیوری سےخطاب
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جیسے جیسے قیام امن کا عمل آگے بڑھے گا، پاکستان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے اقدامات کرےگا۔ امیریکن جیوِش کانگریس کے رہنماؤں سے ایک خطاب میں جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے اسلامی دہشت گردی روکنے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی پاکستان اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات ممکن ہوں گے۔

نیویارک میں یہودی رہنماؤں کے ساتھ ایک تاریخ ساز عشائیے میں جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان کا ’اسرائیل کے ساتھ کوئی تنازعہ یا براہ راست مسئلہ‘ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل سیاسی۔جغرافیائی حقائق کو سمجھے اور فلسطینیوں کے لئے انصاف کی بالادستی ممکن بنائے۔‘ یہودی رہنماؤں کے ساتھ یہ عشائیہ رسمی طور پر روٹی توڑنے اور قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ شروع ہوا۔

پاکستانی رہنماء نے کہا: ’جیسے جیسے قیام امن کا عمل ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب بڑھتا ہے، ہم (اسرئیل کے ساتھ) تعاون اور نارمل تعلقات کے لئے اقدامات کریں گے، تاکہ مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوں۔‘ انہوں نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کو سراہا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو دہشت گردی ختم کرنے اور اسرائیل کی سکیورٹی کے لئے اہم قرار دیا۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام سے اسلام اور یہودیت کے تاریخی تعلقات کو بحال کیا جاسکے گا۔ اس اعشائیہ میں لگ بھگ تین سو بااثر یہودی رہنماؤں نے شرکت کی۔

جنرل مشرف نے اپنے خطاب میں اسلامی معاشروں پر جدیدیت اپنانے میں ناکامی کے لئے تنقید بھی کی۔جنرل مشرف اور یہودی رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت اقوام متحدہ میں اجلاس کے دوران ان کے اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کے ساتھ ایک ’اتفاقیہ‘ ہاتھ ملانے کے تین دن بعد پیش آئی ہے۔

عشائیہ کے دوران جنرل مشرف کا خیرمقدم کرتے ہوئے امیریکن جووِش کانگریس کے جیک روزین نے کہا: ’صدر پرویز مشرف کا اس شب ہمارے ساتھ ہونا انفرادی جرات، قیادت اور دوراندیشی کا عمل ہے۔‘

جیک روزین نے کہا کہ پاکستانی رہنماء کو یہاں تک لانے کا عمل دو سال قبل شروع ہوا جو پاکستانی حکام اور پاکستانی۔امیریکن برادری کے ساتھ غیررسمی بات چیت سے شروع ہوئی تھی۔ جیک روزین نے کہا کہ اس سال ’مئی میں، میں اور ہمارے کونسل آن ورلڈ جوری کے وائس چیئرمین مسٹر فِل بوم۔۔۔ (اور دیگر رہنما) چپکے سے اسلام آباد کے دورے پر گئے۔ کیوں کہ ہم اس بات سے آگاہ تھے کہ سیاسی سطح پر کئی حساس معاملات اس میں شامل تھے۔‘

اس موقع پر جنرل مشرف نے کہا: ’میں تصور نہیں کرسکتا کہ ایک مسلم اور وہ بھی ایک پاکستانی، اور اس سے بھی اہم یونیفارم میں ایک شخص (فوجی) کا یہودی برادری کی جانب سے اس طرح سے والہانہ استقبال کیا جائے گا۔‘ جنرل مشرف کا خطاب پاکستان میں عوامی سطح پر سیاسی دلچسپی کا باعث رہےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد