’اسرائیل سے روابط کافیصلہ کیاہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے۔ جس کے بعد بی بی سی اردو نے پاکستانی وزیرِخارجہ خورشید محمود قصوری سے اس ملاقات اور پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی اہمیت و نوعیت پر بات چیت کی ہے۔ سہیل حلیم: پرانی اور متنازع پالیسی پاکستان نے ترک کی ہے، اس کی ضرورت کیونکر پیش آئی؟ خورشید محمود قصوری: غزہ سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔ گزشتہ دنوں جب صدر محمود عباس پاکستان آئے تھے تو انہوں نے صدر مشرف سے بھی بات کی تھی اور صدر مشرف سے کہا تھا کہ وہ اپنی بین الاقوامی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے کوشش کریں کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے۔ سہیل: ’ڈپلومیٹک انگیجمنٹ‘طلب ہے؟ قصوری: اس سے پہلے ہمارا اسرائیل کے ساتھ پبلک یا حکومتی سطح پر کوئی رابطہ نہیں تھا، اس لحاظ سے ہم عرب اسرائیل تنازع میں کوئی کردار ادار نہیں کر سکتے تھے۔ مسلمان دنیا میں ہیجانی کیفیت کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ فلسطین ہے اور دوسرے نمبر پر مسئلہ کشمیر ہے۔ کشمیر پر ہم نے کمپوزٹ ڈائیلاگ کے ذریعے بات چیت کا آغاز کیا لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسئلہ فلسطین پوری مسلم دنیا میں ردِ عمل کا سبب ہے۔ انگیجمنٹ کی پالیسی اپنانے سے ہم فلسطینی بھائیوں کی زیادہ مدد کر سکیں گے اور امن کے لیے زیادہ معاون ثابت ہو سکیں گے۔ سہیل: کیا حزب اختلاف کو اعتماد میں لیا گیاتھا؟ قصوری: صدر مشرف نے اسرائیل سے رابطے کی بات پوشیدہ نہیں رکھی ہے بلکہ سات آٹھ ماہ قبل صدر مشرف نے تو ایک ڈیبیٹ شروع کرادی تھی، جو پاکستانی اخبارات میں چار ماہ تک چلتی رہی۔ صدر نے کھلے عام پوچھا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے یا نہیں؟ سہیل: یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایک تو یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں کیا گیا اور دوسرا اسرائیل اور انڈیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا اثر کم کرنے کے لیے کیا گیا؟ قصوری: اگر ہمیں امریکہ نے کہنا ہوتا تو گزشتہ اٹھاون سال میں کیوں نہیں کہہ سکا؟ میں اس تاثر کو بری طرح رد کرتا ہوں۔ پاکستان اپنی پالیسی امریکہ کے کہنے پر نہیں بناتا۔ ہم نے عراق کے مسئلے پر امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ہم عراق میں فوجیں بھیجیں، یہ معاملات زیادہ اہم تھے۔ انڈیا جو کر رہا ہے وہ اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کر رہا ہے لیکن جہاں تک ہماری خارجہ پالیسا کا تعلق ہےتو ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جائے۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||