BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 02:28 GMT 07:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیل سے روابط کافیصلہ کیاہے‘
پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے۔ جس کے بعد بی بی سی اردو نے پاکستانی وزیرِخارجہ خورشید محمود قصوری سے اس ملاقات اور پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی اہمیت و نوعیت پر بات چیت کی ہے۔

سہیل حلیم: پرانی اور متنازع پالیسی پاکستان نے ترک کی ہے، اس کی ضرورت کیونکر پیش آئی؟

خورشید محمود قصوری: غزہ سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔ گزشتہ دنوں جب صدر محمود عباس پاکستان آئے تھے تو انہوں نے صدر مشرف سے بھی بات کی تھی اور صدر مشرف سے کہا تھا کہ وہ اپنی بین الاقوامی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے کوشش کریں کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے۔
دوسری بات اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ ہم اسرائیل کو اب بھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم نے صرف اسرائیل کے ساتھ روابط رکھنے کا فیصلے کیا ہے۔ اگر ہم نے کوئی کردار ادا کرنا ہے تو۔
کئی مسلمان ملکوں کے سفارتخانے اسرائیل میں موجود ہیں اور ان ممالک کے اسرائیل سے دوسری نوعیت کے تعلقات ہیں لیکن پاکستان کا اس میں کچھ حصہ نہیں تھا، ایسا ہوتا تو ہم اس میں کچھ کردار ادا کر سکتے تھے۔ محمود عباس کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے سربراہوں نے بھی صدر مشرف سے اپیل کی تھی کہ عالمی امن کے لیے ان کا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ خفیہ رابطے پہلے بھی موجود تھے تاہم غزہ سے اسرائیلی انخلاء کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم سمجھتے ہوئے، اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا رابطہ ایک اچھا قدم ہو گا۔

سہیل: ’ڈپلومیٹک انگیجمنٹ‘طلب ہے؟

قصوری: اس سے پہلے ہمارا اسرائیل کے ساتھ پبلک یا حکومتی سطح پر کوئی رابطہ نہیں تھا، اس لحاظ سے ہم عرب اسرائیل تنازع میں کوئی کردار ادار نہیں کر سکتے تھے۔ مسلمان دنیا میں ہیجانی کیفیت کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ فلسطین ہے اور دوسرے نمبر پر مسئلہ کشمیر ہے۔ کشمیر پر ہم نے کمپوزٹ ڈائیلاگ کے ذریعے بات چیت کا آغاز کیا لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسئلہ فلسطین پوری مسلم دنیا میں ردِ عمل کا سبب ہے۔ انگیجمنٹ کی پالیسی اپنانے سے ہم فلسطینی بھائیوں کی زیادہ مدد کر سکیں گے اور امن کے لیے زیادہ معاون ثابت ہو سکیں گے۔

سہیل: کیا حزب اختلاف کو اعتماد میں لیا گیاتھا؟

قصوری: صدر مشرف نے اسرائیل سے رابطے کی بات پوشیدہ نہیں رکھی ہے بلکہ سات آٹھ ماہ قبل صدر مشرف نے تو ایک ڈیبیٹ شروع کرادی تھی، جو پاکستانی اخبارات میں چار ماہ تک چلتی رہی۔ صدر نے کھلے عام پوچھا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے یا نہیں؟
ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پاکستانی عوام اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان امن لانے میں معاون ہو سلکتا ہے تو اسے کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان اسرائیل میں رابطے کا نہ ہونا صرف مسئلہ فلسطین پر ہی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا بلکہ کئی دیگر معاملات پر بھی ہو رہا تھا۔ مثلاً 7/7 کے بعد اس کے اثرات سامنے آئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک عالمی گاؤں ’گلوبل ویلیج‘ میں رہ رہے ہیں، ایک خطے کے اثرات دوسرے پر پڑتے ہیں۔ آٹھ ملین پاکستانی غیر ملکوں میں آباد ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی بھی اس بات کی خواہاں ہے کہ ایسے اقدام کیے جائیں کہ جن سے ان کی زندگی سہل ہو جائے۔
اگر اسلامی دنیا میں کوئی گڑبڑ ہو تو اس کا اثر پاکستان کے اندرونی اور بیرونی معاملات پر ہوتا ہے۔

سہیل: یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایک تو یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں کیا گیا اور دوسرا اسرائیل اور انڈیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا اثر کم کرنے کے لیے کیا گیا؟

قصوری: اگر ہمیں امریکہ نے کہنا ہوتا تو گزشتہ اٹھاون سال میں کیوں نہیں کہہ سکا؟ میں اس تاثر کو بری طرح رد کرتا ہوں۔ پاکستان اپنی پالیسی امریکہ کے کہنے پر نہیں بناتا۔ ہم نے عراق کے مسئلے پر امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ہم عراق میں فوجیں بھیجیں، یہ معاملات زیادہ اہم تھے۔ انڈیا جو کر رہا ہے وہ اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کر رہا ہے لیکن جہاں تک ہماری خارجہ پالیسا کا تعلق ہےتو ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جائے۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد