BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 September, 2005, 20:24 GMT 01:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک اسرائیل رابطوں کی کہانی

پاک اسرائیل وزرائے خارجہ
جس دور میں بھی پاکستان سٹریٹجک لحاظ سے امریکہ کے قریب آیا اسرائیل سے اس کے ممکنہ تعلقات کا معاملہ کسی نہ کسی سطح پر اٹھتا ضرور رہا
اگرچہ باضابط معنوں میں کبھی بھی پاکستان کے اسرائیل سے کسی بھی نوعیت کے براہ راست تعلقات نہیں رہے لیکن پاکستان کی فلسطینی پالیسی کی بنیاد اس ملک کے بانی محمد علی جناح کے ان بیانات میں ڈال دی گئی تھی جو انہوں نے مئی انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطین کے حق خود ارادیت کے حق میں دیئے تھے۔ اور اس زمانے میں پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفراللہ نے اقوام متحدہ کے ہر فورم سے فلسطینی کاز کی حمایت میں زبردست تقریریں کی تھیں۔

جس دور میں بھی پاکستان سٹریٹجک لحاظ سے امریکہ کے قریب آیا اسرائیل سے اس کے ممکنہ تعلقات کا معاملہ کسی نہ کسی سطح پر اٹھتا ضرور رہا۔ اور اس بارے میں اطلاعات اور قیاس آرائیاں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں نہیں ہوئیں بلکہ ہر خبر کا ماخذ اسرائیل اور مغربی ذرائع ابلاغ ہی رہے۔ مثلاً انیس سو پچپن میں وزیر اعظم محمد علی بوگرا کے زمانے میں اسرائیلی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈی جی نے دِلّی جاتے ہوئے کراچی میں ایک رات قیام کیا۔

انیس سو اکسٹھ میں جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے معدنی وسائل اور پٹرولیم کے وزیر تھے تو انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ اس دوران انہوں نے اس وقت جنیوا میں مقیم اسرائیلی مندوب سے ملاقات کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ذاتی نوعیت کی ملاقات تھی کیونکہ مذکورہ اسرائیلی مندوب کے والد لاڑکانہ میں مجسٹریٹ کے فرائض انجام دے چکے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو کے دوستوں میں سے تھے۔

انیس سو ساٹھ کے عشرے کے آخر میں جب بیگم رعنا لیاقت علی خان ہالینڈ میں پاکستان کی سفیر تھیں تو انہوں نے پاکستان کے قومی دن کے موقع پر جن سفارتکاروں کو ریسپشن میں مدعو کیا اس میں ہالینڈ میں اسرائیلی سفیر بھی شامل تھے۔

تاہم ذوالفقار علی بھٹو جب انیس سو ستر کے عشرے میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں دوری پیدا ہونا شروع ہوئی۔ بالخصوص انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران بھٹو حکومت نے عرب ملکوں خصوصاً شام کی جس طرح کھل کر سٹریٹیجک حمایت کی اور اس جنگ کے بعد تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کی جانب سے مغرب کو تیل کی فراہمی روکنے کے معاملے میں پاکستان نے جس طرح کھل کر عربوں کا ساتھ دیا اس دور میں پاکستان اور اسرائیل کے مابین کسی قسم کے غیر رسمی رابطے کے کوئی آثار نہیں ملتے۔

لیکن جب جنرل ضیاالحق کی فوجی حکومت آئی اور افغان جنگ شروع ہوئی تو پاکستان پھر سے سن پچاس کے عشرے کی طرح امریکہ کے انتہائی قریبی اتحادیوں میں شمار ہونے لگا۔ اس زمانے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی اطلاعات آئیں کہ اسرائیل نے انیس سو اڑسٹھ اور انیس سو تہتر کی جنگوں میں شام اور مصر سے جو روسی ساختہ اسلحہ چھینا تھا اسے سی آئی اے کے توسط سے افغان مجاہدین تک پہنچایا گیا ہے۔

سی آئی اے نے اس قسم کا اسلحہ مصر سے بڑی مقدار میں خریدا کیونکہ مصر اس وقت روسی اسلحہ کا استعمال ترک کر چکا تھا۔

ایسی اطلاعات بھی آئیں کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اہلکار سی آئی اے کے اہلکاروں کے ہمراہ پشاور میں کچھ افغان تنظیموں کو سبوتاژ کی تکنیک سکھانے میں مصروف ہیں۔

جب مصر اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا عرب ملک بنا تو مراکش کو چھوڑ کر ہر عرب ملک نے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیئے بلکہ اسے اسلامی کانفرنس کی رکنیت سے بھی معطل کر دیا گیا لیکن پاکستان کے نہ صرف مصر سے تعلقات قائم رہے بلکہ ضیا الحق نے مصر کو دوبارہ اسلامی کانفرنس میں لانے کی ذاتی کوششیں بھی کیں۔

انیس سو ترانوے چھیانوے کے دوران بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان نے خاصی کوشش کی کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ یاسر عرفات سے اظہار یکجہتی کے لیے بغیر اسرائیلی ویزہ لیے غزہ اور غرب اردن کا دورہ کر سکیں لیکن حکومت اسرائیل نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

جب انیس سو ننانوے میں صدر جنرل مشرف برسر اقتدار آئے تو اسرائیل کی مخلوط حکومت کے وزیر اعظم شمون پیریز نے کہا کہ اسرائیل کا پاکستان سے کوئی جھگڑا نہیں اور ان کا ملک پاکستان سے تعلقات بحال کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔

اس زمانے میں اسرائیل اور بھارت کے باضابطہ تعلقات بھی قائم ہو چکے تھے اور یہ خبریں آنے لگیں تھیں کہ اسرائیل بھارت کے تعاون سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ برس پہلی بار یہ عندیہ دیا کہ اسرائیل اگر مقبوضہ فلسطینی علاقےخالی کر دے تو اس کے ساتھ سفارتی تعلقات پر غور ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان پر پاکستان میں خاصی بحث ہوئی تھی اور حکومت کو یہ کہنا پڑا کہ اس کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اب جب پاکستان امریکہ کا قریب ترین سٹریٹیجک اتحادی ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں بھی بھرپور مرحلے میں ہیں اور اسرائیل کے چین اور بھارت سے بھی معمول کے تعلقات قائم ہیں۔

اور خود فلسطینیوں کو بھی بظاہر اس معاملے پر کوئی اعتراض نہیں اور کئی مسلمان ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔

حکومت پاکستان اس فضا میں غالباً یہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے پاکستان کا روش خیال اور اعتدال پسند ملک ہونے کا امیج اور بہتر ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد