پہلے پاک اسرائیل باضابطہ مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلے باضابطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کئے ہیں۔ یہ ملاقات استنبول کے ایک ہوٹل میں ہوئی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کی حکومت نے بقول ان کے ’اسرائیل سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم دنیا سے ایک نیا رابطہ قائم کرنے کے خواہشمند ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اس ملاقات کو آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا تاکہ سخت گیر اسلامی حلقوں کے رد عمل کو کم کیا جاسکے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق پچھلے ہفتے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیے مثبت رویہ دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جب دونوں ملکوں کے درمیان کوئی تنازعہ موجود نہیں ہے تو اس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مثبت تعلقات نہ ہوں۔ پاکستان میں حزب اقتدار کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات سے عرب دنیا کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر اس بارے میں اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||