| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی اور یہودی
اب سے پانچ سو گیارہ برس پہلے جب اسپین سے نکالے گئے یہودیوں کا پہلا جہاز استنبول میں لنگر انداز ہوا تو عثمانی سلطان بایزید دوم نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوۓ کہا ’ اسپین کے بادشاہ نے یہودیوں کو نکال کر ہم پر بہت مہربانی کی۔اب ترکی ان یہودی ہنرمندوں کی صلاحیتوں سے مالامال ہو گا‘۔ یہودیوں نے بھی ترکوں کو مایوس نہیں کیا۔اپنی آمد کے پہلے برس ہی انہوں نے استنبول میں پہلا چھاپہ خانہ قائم کیا۔سلطان بایزید کے بعد ہر سلطان نے شاہی طبیب کے طور یہودی معالجین کا تقرر کیا۔جب بھی کسی بیرونی قوت بالخصوص یورپی سلطنتوں سے تجارت ، مذاکرات یا معاہدوں کا معاملہ ہوتا، سلطنتِ عثمانیہ کی نمائندگی یہودی تاجر اور سفارتکار کرتے۔ یہودیوں کو اجازت تھی کہ وہ سلطنت کے کسی بھی حصے میں بلا روک ٹوک آباد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کے زوال سے قبل فلسطین میں جو یہودی آباد ہوۓ ان میں سے بیشتر عثمانیوں کے پانچ سو برس کے دور میں ہی یہاں آئے۔اس لئے برطانوی مدد سے عرب میں ترکوں کے خلاف قوم پرستی کی جو لہر اٹھی وہ فلسطین میں بسنے والے یہودیوں پر بھی اثرانداز ہوئی۔ا یہی وہ رشتہ تھا جو انیس سو چوبیس میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد بھی ترکوں اور یہودیوں کے درمیان برقرار رہا۔ انیس سو اننچاس میں ترکی مملکتِ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلمان ملک تھا۔ مگر دونوں ممالک کے تعلقات اگلے چالیس برس تک رسمی سے رہے۔ کیونکہ سوویت یونین کے زوال تک ترکی مغربی دفاعی معاہدے ناٹو کا ایک اہم ستون رہا۔ امریکہ کے بعد ناٹو میں ترکی عددی اعتبار سے دوسری بڑی فوجی طاقت تھا۔ لیکن بدلی ہوئی دنیا میں یورپ اور ناٹو کے لئے ترکی کی وہ عسکری اہمیت نہیں رہی اور ترکی کو اپنی علاقائی تنہائی کا احساس ہونے لگا۔ ترکی کے جنوبی ہمسائے شام نے ترک صوبے ہاتے پر ملکیت کا دعویٰ برقرار رکھا۔ دجلہ اور فرات کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر ترکی کے شام اور عراق سے تعلقات کشیدہ ہوۓ۔ دونوں ملکوں نے ترکی میں جاری کرد علیحدگی پسند تحریک کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ کرد شمالی عراق میں پناہ لیتے رہے جبکہ ان کے رہنما عبداللہ اوجلان شام میں رہتے رہے۔ ترکی کا ایک اور اہم ہمسایہ ایران ہے۔شیعہ ایرانی بادشاہت اور سنی عثمانی سلطنت کے تعلقات کی تاریخ رقابت اور لڑائی کی طویل داستان رہی ہے۔ انقلابِ ایران کے بعد سیکولر ترکی سے اس کے تعلقات شکوک و بدظنی سے عبارت رہے۔پھر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد نو آزاد وسطی ایشیائی ریاستوں میں اثرونفوذ کی دوڑ نے بھی ترکی اور ایران کے تعلقات کو سردمہری کے ایک نئے دور میں دھکیل دیا۔ دوسری جانب اسرائیل بھی شام، صدام حسین کے عراق اور اسلامی ایران کو اپنا دشمن تصور کرتا رہا ہے ۔ چنانچہ دشمن کا دشمن ہمارا دوست کے فارمولے کے تحت ترکی اور اسرائیل انیس سو ستانوے سے قریبی فوجی اور اقتصادی تعاون میں منسلک ہیں۔ دونوں ممالک کی فضائی اور بحری افواج اکثر مشترکہ مشقیں کرتی ہیں۔ اسرائیل ترک طیاروں اور ٹینکوں کے لئے دیکھ بھال، فاضل پرزوں اور اپ گریڈنگ کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ ترکی کی ایران، شام اور عراق سے ملنے والی سرحدوں پر اسرائیل کو سراغرسانی کی سہولتیں حاصل ہیں۔ ترکی میں آباد تقریباً چھبیس ہزار نفوس پر مشتمل یہودی کمیونٹی کا سیاحت، بینکاری اور تجارت میں خاصا عمل دخل ہے۔ ترکی کو ان تعلقات سے ایک اہم ذیلی فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ قبرص کے معاملے میں ترکی اور یونان کی پرانی مخاصمت کے ہوتے ہوئے واشنگٹن میں اسرائیلی لابی امریکی کانگریس کے سامنے ترک مفادات کے لئے نرم گوشہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ویسے ترکی اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم کا بھی اہم رکن ہے اور ہر مسلمان ملک کی حکومت کی طرح ترکی کی بھی خواہش ہے کہ عالمِ اسلام اپنے اختلافات بھلا کر کسی ایک نکتے پر متحد ہو جاۓ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||