| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اسرائیل پالیسی تبدیل نہیں ہوئی‘
پاکستان نے کہا ہے کہ ڈیوس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی اسرائیل کے سابق وزیر اعظم شمعون پریز سے ’اتفاقی ملاقات‘ سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کے دن سوئئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر جنرل مشرف نے اسرائیلی وزیراعظم سے مصافحہ کیا تھا۔ روزنامہ ڈان کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود احمد خان نے اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ محض ایک اتفاقی ملاقات تھی جو صرف چند ثانیے جاری رہی۔‘ مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے والا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کے وزیر زراعت نے کہا تھا کہ انہیں پاکستان جانے کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم حکومت پاکستان نے اس کی تردید کر دی تھا اور کہا تھا کہ مذکورہ وزیر کو دعوت نہیں دی گئی بلکہ وہ اقوام متحدہ کے ایک وفد میں شامل تھے۔ اس وفد کا دورہ بھی اب مؤخر ہوگیا ہے۔ ادھر اسرائیلی ٹیلی وژن چینل ٹو نے اپنے نامہ نگار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ان کے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی صدر جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات ایک حساس مسئلہ ہے۔ نامہ نگار کے مطابق جنرل مشرف نے کہا کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں تاہم اب دنیا بدل گئی ہے لہذا انہیں بھی پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے پاکستان کے سرکاری سطح پر تعلقات مسئلہ فلسطین سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان کا موقف ہے کہ خطے میں دو خود مختار ریاستیں قائم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے کے بعد ہی پاکستان اپنی پالیسی پر نظرثانی کر سکے گا۔ البتہ موجودہ حالات میں اس بات کا کوئی امکان نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||