یہودیوں سےخطاب کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف اگلے ماہ امریکہ میں ایک یہودی گروپ امریکی یہودی کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ امریکی یہودی کانگریس فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو درست سمجھتی ہے۔ یہ ادارہ جمہوری اداروں کے استحکام اور شہری آزادیوں کا علمبردار ہے اور اپنے قیام کے بعد سے ہی خود کو ایک یہودی ریاست کے صیہونی خواب سے وابستہ قرار دیتا ہے۔ جنرل مشرف اگلے ماہ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی یہودی کانگریس اور کونسل فور ورلڈ جیوری سے خطاب میں اسلام سے متعلق اپنے اس نظریے کی وضاحت کریں گے جس کو وہ ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ امریکی یہودی کانگریس کے صدر جیک روزین نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پاکستانی صدر نے اپنی شرکت کی تصدیق کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صدر مشرف سے میری ملاقاتوں میں ان کے روشن خیال اعتدال پسندی کے نظریے پر بات ہوئی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم دنیا میں مفاہمت، برداشت اور بہتر معاشی و سماجی مواقع ہونے چاہیں۔ میں نے ان سے اتفاق کیا اور ان کو دعوت دی کہ وہ نیویارک آئیں تو ہمارے ادارے میں خطاب کریں‘۔ جیک روزین کا کہنا تھا کہ گو وہ یہ بات جانتے ہیں کہ صدر مشرف فوج کے سربراہ ہیں لیکن انہوں نے دنیا کو درپیش حالات پر جرات مندانہ موقف اپنایا ہے اور اس وجہ سے دوسری باتیں پیچھے چلی جاتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی عوام فلسطینیوں کے حقوق اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے حامی ہیں اور عالمی قانون کی رو سے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے تو کیا امریکی یہودی کانگریس بھی اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دے گی۔ جیک روزین کا کہنا تھا ’نہیں میں ایسا نہیں سمجھتا۔ تاریخ کی روشنی میں اور اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے تناظر میں یہ اسرائیل کا حق ہے اور اس نے غرب اردن پر ایک موقف اپنایا ہے۔ غزہ کی ہم بات نہیں کرتے کیونکہ یہ علاقہ واپس کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی دونوں فریقوں سے کہتی ہیں کہ وہ باہمی طور پر یہ معاملہ طے کریں‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس کے اجلاس میں دوسرے گروپوں اور برادریوں کے لوگ بھی شرکت کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||