’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان نے یورینیم کی افزودگی کے لیےشمالی کوریا کو سینٹری فیوج فراہم کیے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی کے اس شعبے کی نشاندہی کی جس میں ڈاکٹر قدیر نے کوریا کومدد فراہم کی تھی۔ لیکن صدر مشرف نے جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کو یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے شمالی کوریا کو جوہری بم بنانے کی مہارت فراہم نہیں کی۔ ڈاکٹر قدیر خان نے گزشتہ سال جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ہمیشہ اس معاملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ صدر مشرف نے جاپانی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ڈاکٹر قدیر نے سینٹری فیوج پارٹس اور مکمل شکل میں کوریا کو فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوریا کو فراہم کیے گئے سینٹری فیوج کی صحیح تعداد یاد نہیں ہے۔ سینٹری فیوج یورینیم کی افزودگی کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے بعد یورینیم کو بجلی پیدا کرنے اور جوہری اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم صدر مشرف نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر نے یورینیم کو گیس میں تبدیل کرنے یا جوہری اسلحہ بنانے کے دیگر مراحل میں شمولیت نہیں کی۔ ’ڈاکٹر قدیر بم بنانا نہیں جانتے۔ انہیں جوہری بم کو چلانے سے متعلق ٹیکنالوجی کی مہارت نہیں اور نہ اسے لے جانے سے متعلق ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں۔‘ ’اگر شمالی کوریا بم بنا لیتا ہے تو اس میں ڈاکٹر قدیر کا حصہ صرف یورینیم کی افزودگی میں ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو باقی تمام ٹیکنالوجی یا تو کوریا نے خود حاصل کی ہو گی یا پھر کسی اور ملک سے لی ہو گی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||