معائنہ کاری: اجازت نہیں دیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیرملکی معائنہ کار کو اپنے جوہری ہتھیاروں یا دیگر جوہری تنصیبات کی چھان بین کی اجازت نہیں دے گا۔ لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ فنینشل ٹائمز کے گفتگو کرتے ہوئے صدر مشرف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنا جوہری یا میزائلوں کا منصوبہ ترک نہیں کرے گا۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان نے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی اور وہ آئی اے ای اے سے تعاون بھی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں خودکفیل ہے اور اسے جو اشیاء بیرونی ممالک سے حاصل کرنی تھیں وہ پہلے ہی لی جا چکی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کی سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ صدرِ پاکستان نے اس بات کی بھی تصدیق کی اس ماہ کے آخر میں دور مار کرنے والے میزائل شاہین ٹو کا تجربہ کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھارت کے ساتھ مقابلہ کرنے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||