BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2004, 23:00 GMT 04:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری راز فروخت کئے گئے: مشرف
پاکستان حکومت نے پہلے کہا تھا کہ شاید کسی نے ذاتی مفاد کے لیے جوہری راز بیچے ہوں
پاکستان حکومت نے پہلے کہا تھا کہ شاید کسی نے ذاتی مفاد کے لیے جوہری راز بیچے ہوں

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی سائنسدانوں نے ذاتی مفاد کی خاطر جوہری ٹیکنالوجی فروخت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہو ہے تو اس میں حکومت ملوث نہیں تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا یہ بات صاف ہے کہ کچھ افراد نے ذاتی مفاد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو فروخت کی ہے۔

صدر نے کہا کہ اس بارے میں کی جانے والی تحقیقات کو چند ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ صدر مشرف نے کہا کہ جو بھی اس سازش میں ملوث ہوگا اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔

’ہم کچھ چھپانا نہیں چاہتے اور ہم یہ بات واضح طور پر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ جو کوئی بھی ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کوئی سرکاری اور فوجی اہلکار اس میں ملوث تھا۔

آئی ای اے ای کے سربراہ محمد البرداعی نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق کچھ افراد اس میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہتے اور یہ نہیں کہنا چاہتے کہ اس میں حکومت بھی ملوث تھی۔

پاکستان کے خفیہ ادارے جوہری ٹیکنالوجی کے غیر قانونی طور پر ایران اور دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

اس تفتیش کا آغاز جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی ادارے ( آئی ای اے ای) کی طرف سے فراہم کی جانے والی معلومات کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان میں اب تک درجنوں افراد سے، جو ملک کے جوہری پروگرام کے ساتھ منسلک رہے ہیں جن میں خان ریسرچ لیبارٹری کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی شامل ہیں، تفتیش ہوچکی ہے۔

اس ضمن میں ہونے والی تفتیش کے سلسلے میں نو افراد جن میں کچھ سائنسدان بھی شامل ہیں اب تک زیر حراست ہیں۔

اپنے اوپر ہونے والے خودکش قاتلانہ حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ ان حملوں میں ملوث ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو ان حملوں میں ملوث تھے ان کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن ان کے درمیان روابط کی ابھی تفتیش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ ان حملوں کے احکامات کس نے جاری کئے تھے لیکن ان لوگوں کے القاعدہ سے روابط کا اندازہ ہو چکا ہے۔

صدر مشرف پر دسمبر کے مہینے میں دو حملے کئے گئے تھے۔ پچس دسمبر کو ہونے والے حملے میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد