BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 January, 2004, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف: کشمیر کے حل کے لئے پر اُمید
مشرف اور واجپئی
مسئلہ کشمیر چار مراحل میں حل ہو سکتا ہے

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فریقین اگر لچک کا مظاہرہ کریں تو کشمیر کے مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو بی بی سی ورلڈ ٹیلی ویژن سے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

تاہم پاکستان کے صدر نے بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ایشیا ٹوڈے میں کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا ایسا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جو تینوں سب کےلئے قابل قبول ہو۔

اسلام آباد میں سارک کانفرنس کے دوران پاکستان اور بھارت نے کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

صدر مشرف کا کہنا ہے دونوں فریقین کو اپنے موقف سے ہٹ کر ’آدھے راستے‘ پر ملنا ہوگا۔

انہوں نے کشمیر کے مسئلے کا چار مراحل میں حل تجویز کیا۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں بات چیت شروع کی جائے، دوسرے مرحلے میں کشمیر کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے، اس کے بعد ان باتوں کی نشاندہی کی جائے جو کشمیریوں، بھارت اور پاکستان کو ناقابل قبول ہیں اور اس کے بعد مسئلے کے حل کی طرف چلا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد قبول کرنا ناممکن ہے۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر دونوں ملک جنگیں لڑ چکے ہیں اور کوئی متنازعہ چیز مسئلے کل حل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں مسائل کے حل کے لئے ماحول سازگار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت نے کشمیر میں متحرک کسی شدت پسند تنظیم کو کوئی ہدایات جاری نہیں کیں اور نہ ہی ایسی تنظیمیں ان کے کنٹرول میں ہیں۔

انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے حملوں میں بھی کسی کشمیری تنظیم کے ملوث ہونے کو بھی خارج از امکان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا کشمیر کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ القاعدہ کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں‘۔

جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ ’بے ضمیر افراد‘ نے حکومت کی معلومات کے بغیر ایٹمی راز دوسرے ممالک کو فروخت کئے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’ان لوگوں نے ذاتی مفاد کے لئے کچھ کیا ہے اور ہم انہیں سزا دیں گے‘۔ صدر مشرف نے مزید کہا کہ ’ہم ان کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے کیونکہ انہوں ملک کے ساتھ دشمنی کی ہے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد