’قدیرکو سی آئی اے نے بچایا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے سابق وزیر اعظم رُوڈ لُبرز نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو تیس سال پہلے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے گرفتاری سے بچایا تھا۔ مسٹر رُوڈ لُبرز کے مطابق سن انیس سو پچھہتر میں سی آئی اے کے ہالینڈ کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کے خلاف مقدمہ نہ چلائے۔ ہالینڈ کی حکومت کو ڈاکٹر قدیر خان کی سرگرمیوں پر اس وقت پہلی بار شک ہوا تھا جب وہ ہالینڈ کی یورینیم فرم یورینکو میں کام کر رہے تھے۔ مسٹر لبرز کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے رابطوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر قدیر خان یورینکو میں ایک انجنیئر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ مسٹر لبرز نے ڈچ ریڈیو کو بتایا کہ امریکیوں کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر قدیر کی نگرانی کریں اور ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔ ڈاکٹر قدیر خان سن انیس سو چھہتر میں پاکستان آ گئے تھے اور انہوں نے ملک کا پہلا جوہری اسلحے کا پروگرام شروع کیا تھا۔ ہالینڈ میں ان کی عدم موجودگی میں ان پر جوہری راز چرانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ لیکن ان کو سنائی گئی سزا بعد میں تیکنیکی بنیادوں ہر ختم ہو گئی۔ ڈاکٹر قدیر خان نے گزشتہ سال اقرار کیا تھا کہ انہوں نے شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو جوہری راز فراہم کئے۔ ان کے اس اقرار کے بعد سے انہیں اسلام آباد میں اپنے گھر میں سخت نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||