’ مشرف کی روشن خیالی دھوکہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنی روشن خیالی کی پالیسی کو صرف دنیا کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ان کی حکومت کے اقدامات ذرا سے بھی روشن خیالی کے خلاف جاتے ہیں۔ ان تنظیموں کے عہدیداران نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی طرف سے انتہا پسند مذہبی قوتوں کو مکمل آزادی ہے اور اس کے برعکس معاشرے کے اعتدال پسند طبقوں پر ریاستی تشدد کا بازار گرم رکھا جا رہا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ اور لاہور میں منعقد کی گئی علامتی میراتھن ریس میں عورتوں پر تشدد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں صرف مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو مکمل آزادی ہے اور ان کے دباؤ پر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے اور دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو سیاسی سرگرمیوں اور جلسے منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ چودہ مئی کو ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے لاہور میں منعقد کی گئی علامتی میراتھن پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر سمیت کئی افراد کے ساتھ پولیس نے ہاتھا پائی کی اور بعد میں انہیں چند گھنٹوں کے لیے گرفتار کرلیا گیا۔اس واقعے پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں سخت احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر بھی الزام لگایا کہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے منافی پالیسیوں پر مزاحمت نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود میراتھن منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں خوفزدہ ہو کر ان پر پابندی لگا دی۔ ان تنظیموں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی بھی طرح کے پر امن اجتماعات کو برداشت نہیں کر رہی اور اب ان کو سختی سے کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ابھی تک کسی بھی حکومتی عہدیدار نے ان واقعات پر حکومت کی طرف سے معذرت نہیں کی ہے بلکہ ان واقعات میں پولیس کی طرف سے تشدد اور گرفتاریاں کرنے پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||