BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 March, 2005, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رہائی یامقدمہ، ہیومن رائٹس واچ

پاکستانی نژاد امریکی
سارا زین کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہر دروازے کو کھٹکھٹاچکی ہیں لیکن کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دو پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کو جن کو گزشتہ برس اگست کے مہینے میں کراچی سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، یا تو رہا کرے یا ان کو ان پر لگائے گئے الزامات کے تحت ان پر مقدمہ چلائے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پچیس سالہ کاشان افضل اور تئیس سالہ زین افضل، دونوں بھائیوں پر اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ تعلق کے الزامات ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کرے کیونکہ ان نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کو امریکی حکم پر حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم زین افضل کی اہلیہ سارا افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر اور جیٹھ کو ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر زین اکتوبر دو ہزار ایک میں حزب المجاہدین تنظیم کے کارکنوں کے ہمراہ افغانستان جہاد کے لیے گئے تھے مگر وہ دس دن میں ہی واپس آ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ان کے شوہر کو مئی کے مہینے میں بھی اغوا کیا گیا تھا اور ان کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔سارا کے مطابق گزشتہ برس تیرہ اگست کو زین اور کاشان کو دوبارہ اغوا کیا گیا اور اس مرتبہ اغوا کار ان کے امریکی پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات سمیت کئی چیزیں اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد سے وہ اب تک لاپتہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے علاقے ناظم آباد کے تھانے رضویہ میں جب وہ اس کیس کی رپورٹ لکھوانے گئیں تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ یہ کام خفیہ اداروں کا ہے جس میں پولیس کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔

بڑا بھائی
مغویوں کا بڑا بھائی جو کچھ عرصے سے لاپتہ ہے

بیس سالہ سارا کے مطابق انھوں نے اس اغوا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں حکومتی خفیہ اداروں کے خلاف کیس کیا مگر ان اداروں نے عدالت میں لکھ کر دے دیا کہ زین اور کاشان ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

سارا نے کہا کہ انھوں نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکی صدر جارج بش کو زین اور کاشان کی رہائی کے لیے متعدد خطوط بھی لکھے ہیں مگر ان میں سے کسی ایک کا جواب بھی انھیں موصول نہیں ہوا ہے۔

سارا نے کہا کہ انہوں نے اپنے شوہر اور جیٹھ کی رہائی کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے مگر کہیں سے بھی ان کو انصاف نہیں ملا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد