BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حراست کے خلاف فیصلہ محفوظ

فوجی
حاضر سروس فوجیوں پر القاعدہ سے تعلق کا الزام ہے
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے چھ حاضر سروس فوجی افسران کو مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق اور ایک کاروباری شخص کو صدر مشرف پر حملے کے شبہ میں زیرحراست رکھنے کے خلاف داخل درخواستوں کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

جسٹس اختر شبیر اور جسٹس تنویر بشیر انصاری پر مشتمل بینچ کے سامنے درخواست گزاروں کے وکیل اکرام چودھری نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے متعلقہ فوجی افسران کی گرفتاری، حراست یا الزامات کے بارے میں کوئی تحریر حکم عدالت میں پیش نہیں کیا۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ تمام فوجیوں کی رہائی کے لیے فوری مداخلت کی جائے اور انہیں رہائی دلائی جائے کیونکہ ان کے بقول متعلقہ حکام نے عدالت میں زیرحراست افراد کے متعلق کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا۔

اکرام چودھری نے عدالت کو بتایا کہ آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار شدگان کے متعلق اعلیٰ عدالتیں مداخلت کی قانونی طور پر مجاز ہیں۔

حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل چودھری طارق محمود پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آئین کی شق 199 (3) کے تحت مسلح افواج کے متعلق معاملات عدلیہ کے دائرہ سماعت میں نہیں آتے لہٰذا درخواستیں مسترد کی جائیں۔

گزشتہ پیشی کے وقت عدالتی نوٹس پر جنرل ہیڈ کوارٹرز کی ’جج ایڈوکیٹ جنرل، برانچ کی طرف سے برگیڈیئر ایوب پیش ہوئے تھے اور انہوں نے عدالت کے سامنے متعلقہ فوجی افسران کو حراست میں لینے کی پہلی بار تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں آرمی ایکٹ کے تحت پکڑا گیا ہے۔

فوجی نمائندے نے یہ بھی عدالت میں کہا تھا کہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے عرصہ سے کچھ افسران زیر حراست ہیں اور ان کے خلاف ’آرمی ایکٹ، کے تحت کارروائی ہوگی۔

ان کے بقول معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور وہ عدالت میں اس تحریری حکم کو پیش نہیں کر سکتے جس کے تحت انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔

ایڈوکیٹ اکرام چودھری نے بتایا کہ القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں حکومت نے کرنل خالد عباسی، کرنل غفار بابر، میجر روہیل فراز، میجر عطاءاللہ، میجر عادل فردوس اور کیپٹن عثمان کو کئی ماہ سے حراست میں لیا ہوا ہے۔

وکیل کے مطابق زیر حراست چھ فوجی افسران کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کردہ علیحدہ علیحدہ درخواستوں میں وفاقی سیکریٹریز دفاع اور داخلہ کے علاوہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی فریق بنایا گیاہے۔

انہوں نے بتایا کہ درخواستوں میں عدالت سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ کسی زیر حراست افسر کو غیر ملک کے حوالے نہ کیا جائے۔

ایڈووکیٹ اکرام چودھری نے بتایا کہ چھ فوجی افسران کی درخواستوں کے ساتھ ایک کاروباری شخص محمد سرور بھٹی کی گرفتاری کے خلاف ان کی بیگم سعدیہ سرور کی جانب سے داخل کردہ درخواست کی سماعت بھی اس بینچ نے کی اور اس پر بھی فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے۔

وکیل کے مطابق محمد سرور کو سیکورٹی ایجنسیز نے صدر جنرل پرویز مشرف پر گزشتہ سال دسمبر میں جھنڈا چیچی پل پر ہونے والے پہلے حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دسمبر میں یکے بعد دیگرے صدر جنرل پرویز مشرف کو جان سے مارنے کے لیے ان کے قافلے پر دو حملے ہوئے تھے اور صدر مشرف نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان پر حملے میں فضائیہ کے بعض چھوٹے رینک والے ملازمین بھی ملوث ہیں جو حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

انہوں بتایا کہ عدالت نے محفوظ کردہ فیصلہ ستائیس جولائی کو سنانے کا کہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد