’القاعدہ کے کمپیوٹر ماہر‘ کہاں ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے القاعدہ کے کمپیوٹر شعبے کے انچارج نعیم نور خان کی گرفتاری کے متعلق حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ جسٹس محمد شبیر اختر پر مشتمل سنگل ممبر بینچ نے بدھ کے روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت چودہ دسمبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ کے سیاسی شعبے کے ڈپٹی سیکریٹری ریاض ملک آئندہ سماعت کے موقع پر پیش ہوکرتفصیلی جواب داخل کریں کہ نعیم نور خان کو کیوں گرفتار کیا گیا اور ان پر کیا الزامات ہیں؟ نعیم نور خان کے والد حیات نور خان نےجو کہ’پی آئی اے‘ میں ’ایئر کرافٹ انجنیئر‘ ہیں حبس بے جا کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مئی میں ان کے بیٹے کو لاہور کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا جس کی تصدیق دنیا بھر کی میڈیا میں شائع اور نشر ہونے والی خبروں سے ہوتی ہے۔ جبکہ ان کے مطابق وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن تاحال انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ نعیم نور خان کے متعلق حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ القائدہ کے کمپیوٹر شعبے کے انچارج تھے اور اس کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے القاعدہ کے مبینہ شدت پسند، جن میں احمد خلفان غلانی بھی شامل ہیں، گرفتار کیے گئے تھے۔ نعیم نور خان کی گرفتاری کے بعد ان سےمبینہ طور پر برآمد ہونے والے نقشوں اور منصوبوں کے حوالے سے مغربی میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ لندن کا ’ہیتھرو ایر پورٹ‘ اڑانے کی سازش پکڑی گئی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چاہے جو بھی الزامات ہوں گرفتار شخص کو چوبیس گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا قانون کے مطابق لازم ہے۔ ان کے مطابق نعیم نور خان کی گرفتاری کو سات ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے لیکن انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل چودھری طارق محمود پیش ہوئے اور کہا کہ اس مقدمے سے وابستہ وزارت داخلہ کے افسر ریاض ملک موجود نہیں ہیں اور انہیں وقت دیا جائے۔ عدالت نے سماعت چودہ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ متعلقہ افسر عدالت میں پیش ہوکر گرفتاری کے متعلق معلومات پیش کریں اور درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا جواب بھی تحریری طور پر داخل کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||