ڈاکٹروں پر القاعدہ سے تعلق کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر اکمل وحید اور ان کے بھائی ڈاکٹر ارشد وحید کو جمعرات کو ان کے خلاف ایک اور مقدمے میں سات دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔ استغاثہ نے چودہ دن کے ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔ دونوں ڈاکٹروں کے خلاف القاعدہ تنظیم کے لوگوں کا طبی علاج کرنے، ان سے رابطے رکھنے اور اس تعلق کو چھپانے کے حوالے سے ایک نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی ایف آئی آر گلشن اقبال تھانے میں درج کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا علاج کیا جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہیں۔ جمعرات کو عدالت میں پیشی کے موقع پر ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر ارشد کو ان کی گرفتاری کے بعد پہلی دفعہ ان کے اہل خانہ اور وکیل سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھےاور عدالت کے آس پاس پولیس اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر ارشد سترہ جون کی شب کو لاپتہ ہو گئے تھے۔ تاہم دو جولائی کو پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی اور تین جولائی کو انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||