کراچی میں ڈاکٹروں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ڈاکٹروں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ڈاکٹر اکمل وحید اور ان کے بھائی ڈاکٹر ارشد وحید کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے شرکاء کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوئے جہاں انہوں نے وحید برادران کی گرفتاری کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین میں ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر ارشد کے اہل خانہ سمیت ان کے زیرِ علاج مریض بھی شامل تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے رہنما ڈاکٹر شیر شاہ نے مطالبہ کیا کہ دونوں گرفتار ڈاکٹروں کو ان کے وکیل اور اہل خانہ سے ملنے دیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی اور فوجی حکمرانوں سے مطالبہ کیا دونوں ڈاکٹروں سے انصاف کیا جائے اور قانونی تقاضوں کے مطابق تفتیش کی جائے۔ اس موقع پر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ڈاکٹر مصباح العزیز نے کہا کہ دونوں ڈاکٹروں کی گرفتاری ایک طرح کا قانونی اغوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر آ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت انہیں اور دیگر اہل خانہ کو ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر ارشد سے ملنے کی اجازت دلوائے۔ ڈاکٹر اکمل وحید اور ارشد وحید سترہ جون کی شب کو لاپتہ ہو گئے تھے۔ بعد میں انہیں انسداد دھشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے انہیں پندرہ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔ وحید برادران پر الزام ہے کہ وہ کور کمانڈر کراچی پر دس جون کو ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ اس حملے میں سات فوجی، تین پولیس اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہو گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||