القاعدہ پر مقدمہ نہیں چلایا: ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی وزارتِ خارجہ نے عدالتی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایران میں القاعدہ کے کئی اراکین پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جن افراد پر مقدمہ چلایا گیا ہے وہ القاعدہ کے اراکین نہیں ہیں بلکہ وہ ایرانی ہیں جن کی ہمدردیاں القاعدہ کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی غیرملکیوں سے القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں تفتیش جاری ہے مگر ابھی تک کسی مقدمہ کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایرانی عدلیہ کے سربراہ عباس علی علیزادے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پہلی بار ایران میں القاعدہ کے اراکین پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔تاہم انہوں نے ان افراد پر لگائے جانے والے الزامات اور سزاؤں کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔ امریکہ ایران پر افغان جنگ کے بعد القاعدہ کے اراکین کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جس سے ایران ہمیشہ انکار کرتا آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||