آٹھ اغوائی ایران سےگزرے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے قائم مقام سربراہ جان میکلافلِن نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے اغوائیوں میں سے آٹھ ایران سے ہوکر گزرے تھے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایرانی حکام امریکہ پر ہونیوالے حملوں میں ملوث تھے۔ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو نیویارک اور واشنگٹن پر ہونیوالے حملوں کی تحقیقات کرنیوالے کمیشن کی ایک رپورٹ اس ہفتے شائع کی جائے گی جس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر دوہزار کے بعد سے ایران کی سرکاری پالیسی یہ تھی کہ القاعدہ کے کارکنوں کو آزادنہ طور پر آنے جانے دیا جائے۔ ادھر ایران نے اعتراف کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ چند اغوائی ایران کی سرزمین سے ہوکر گزرے ہوں لیکن تب سے ایرانی سرحد پر کنٹرول سخت کردیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی سرکاری پالیسی یہ تھی کہ ایرانی سرزمین سے گزرنے والے القاعدہ کے کارکنوں کے پاسپورٹ پر اسٹامپ نہ لگایا جائے۔ پاسپورٹ پر ایرانی اسٹامپ لگنے سے ان کارکنوں کو امریکی سرحد پر گزرتے وقت سخت چھان بین کا سامنا ہوتا۔ تاہم سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی اس پالیسی کے باوجود اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایرانی حکام گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث تھے۔ امریکہ ایران پر برسوں سے دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے ایران کو ’بدی کے محور‘ کا حصہ قرار دیا تھا۔ چند روز قبل ایرانی حکام نے کہا کہ انہوں نے ملک میں القاعدہ کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے کوششیں کی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||