| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے مشتبہ افراد کے نام ظاہر
ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر القاعدہ کے دوسو سے زیادہ مشتبہ ارکان کے نام ظاہر کئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے تہران میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ مبینہ دہشت گرد اپنے اپنے آبائی ممالک کی حکومتوں کے حوالے بھی کردیئے گئے ہیں۔ امریکہ ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے اور انہیں ایران سے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم ایرانی حکام ہمیشہ اس الزام کی انتہائی شدت سے تردید کرتے رہے ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے صحافیوں کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اپنا وعدہ نباہتے ہوئے ایران نے القاعدہ کے دو سو پچیس مشتبہ ارکان کی فہرست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام کے متام ارکان اپنے اپنے آبائی ممالک کی حکومتوں کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایران میں اب تک گرفتار افراد کے نام بتانے سے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت حفاظتی نکتۂ نگاہ سے سمجھتی ہے کہ ان افراد کے نام نہ بتائے جانے کو ہی ترجیح دی جائے۔ امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ایران القاعدہ کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کی پشت پناہی کررہے ہے اور انہیں اپنے ملک سے کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم حامد آصفی کا کہنا تھا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران مکمم طور پر القاعدہ کے خلاف ہے۔ امریکہ اس بات پر بپھرا ہوا ہے کہ ایران نے القاعدہ کے ان مشتبہ ارکان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اس خدشے کے پیش نظر القاعدہ کے سوال پر امریکہ سے براہ راست تعاون سے گریزاں رہا ہے کہ کہیں القاعدہ اسے بھی دہشت گردی کا نشانہ نہ بنائے۔ تاہم دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ایران القاعدہ کے ان مشتبہ ارکان کو امریکہ سے مذاکرات کے دوران استعمال کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||