حقوقِ انسانی کا ایک اور ادارہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت حقوقِ انسانی اور دیگر قوانین پر نظرِ ثانی کی غرض سے ایک نیا ادارہ بنا رہی ہے۔ جنرل مشرف نے یہ اعلان ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا لیکن اسلام آباد میں نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں کہ مجوزہ ادارہ کب تک قائم کیا جائے گا۔ اعلان کے مطابق نیا کمیشن جو بھی سفارشات مرتب کرے گا ان پر عملدرآمد کیا جائے گا نیا ادارہ جن دو امور پر خاص طور پر غور کرے گا ان میں سابق فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں سامنے آنے والے حدود آرڈینینس اور توحینِ رسالت کا قانون شامل ہے۔ ان دونوں معاملات پر پاکستان کے مختلف حلقوں میں کافی بحث جاری ہے اور یہ قوانین متنازعہ ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت اس سلسلے میں کافی کام کر رہی ہے اور خود صدر کی خواہش بھی ہے کہ معاملات کو سدھارا جائے لیکن ماضی میں بھی جنرل مشرف اسی طرح کے کئی اعلان کر چکے ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ اس کی ایک مثال توحینِ رسالت کا قانون ہے جس میں موجودہ حکومت نے ایک انتظامی ترمیم متعارف کرائی تھی لیکن دینی جماعتوں کے دباؤ کے بعد وہ ترمیم واپس لے لی گئی۔ اس کے علاوہ حکومت کا اپنا بنایا ہوا ایک ادارہ ماضی میں حدود آرڈینینس کے بارے میں کہتا رہا ہے کہ یہ حقوقِ انسانی کے خلاف ہے لیکن ابھی تک حکومت نے اس پر کچھ نہیں کیا اور پارلیمان بھی اس پر خاموش ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں جنرل مشرف کی حکومت ان معاملات پر اگر ایک قدم آگے جاتی ہے تو دینی جماعتوں کے دباؤ پر دو قدم پیچھے بھی ہوجاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||