’نہ توثق کیے نہ دستخط کیے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان نے ابھی تک تشدد کے خاتمے، شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ’کنوینشن‘ کی نہ تو توثیق کی ہے نہ ہی دستخط کیے ہیں۔ شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں ’کنوینشن ‘ پر دستخط اور توثیق نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ’کنوینشن ‘ کی بعض شقیں شرعی اصولوں اور ملکی قوانین سے متصادم ہیں۔ جبکہ ان کے بقول بعض شقوں کی خاطر آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ تشدد کے خاتمے کے بارے میں اقوام متحدہ کے ’کنوینشن‘ پر دستخط نہ کرنے کا عذر وزیر خارجہ نے بعض دوست ممالک کے ساتھ ملزموں کے تبادلے وغیرہ جیسے امور نمٹانے میں پیش آنے والی مشکلات بتایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان دوست ممالک کے نافذ کردہ قوانین کا معیار اور قانونی طریقہ کار ایسا نہیں ہے جو اس ’کنوینشن‘ کی شقوں کے تقاضا کے عین مطابق ہو۔ وزیر نے تسلیم کیا کہ کسی بھی ملک کو انسانی حقوق کا پابند سمجھنے کے لیے اقوام متحدہ نے پیمانے کے طور پر جن چھ ’کنوینشنوں‘ پر دستخط کرنے اور ان کی توثیق کو لازمی قرار دیا ہے ان میں سے تین ایسے ہیں جن پر پاکستان پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان چھ میں سے دو کنوینشن جو تشدد، شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں ہیں، ان کی پاکستان نے تاحال توثیق نہیں کی۔ جبکہ ان کے مطابق ایک ’کنوینشن‘ جو اقتصادی، سماجی، اور ثقافتی حقوق کے بارے میں ہے، اس پر دستخط تو کیے ہیں لیکن توثیق نہیں کی۔ بعد ازاں قومی اسمبلی میں حزب مخالف نے مولانا شیرانی کو بولنے کی اجازت نے ملنے پر واک آؤٹ کیا اور وقفے وقفے سے دو بار کورم کی نشاندہی کرکے حکومت کی جانب سے قانون سازی میں رکاوٹ پیدا کی۔ کورم پورا نہ ہونے کے بعد اجلاس جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||