سپیکر قومی اسمبلی کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے حکومت کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وزراء کی ایوان میں موجودگی یقینی بنائی جائے ورنہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کارروائی کریں گے۔ یہ دھمکی انہوں نے اس وقت دی جب جمعہ کے روز ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران بیشتر وزراء غیر حاضر تھے۔ سوالات کے جوابات نہ ملنے پر حزب مخالف کے اراکین نے وزراء کی غیرموجودگی اور ایوان کی کارروائی کو غیر سنجیدہ لینے کا الزام عائد کیا۔ سپیکر نے حزب مخالف کے اراکین کی بات سے ناصرف اتفاق کیا بلکہ حکومت پر زوردیا کہ وہ وزراء سے کہیں کہ ایوان کے کام کو سنجیدگی سے لیں۔ انہوں نے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی کے تیار ہوکر آنے اور کارروائی میں بھرپور طریقے سے شرکت کو سراہا اور انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ وہ وزراء کی غیر سنجیدگی کے معاملے کو دیکھیں۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو ایوان میں دونوں جانب کے اراکین کی تعداد کورم پورا کرنے جتنی بھی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کے اراکین ایوان سے باہر چلے گئے اور ایک رکن پیر فضل شاہ نے کورم کی نشاندہی کردی۔ سپیکر نے گنتی کرائی تو حکمران اتحاد اور حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ کے اراکین ایوان میں بیٹھے رہے لیکن کورم پھر بھی پورا نہیں تھا۔ ایک لحاظ سے حکومت کو کورم پورا کرنے میں مجلس عمل نے مدد کی لیکن پھر بھی ایسا نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے تک موخر رہی۔ پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمٰن نے ریاستی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ کی جانب سے اپنے جہاز سستے داموں فروخت کرکے نئے جہاز مہنگے داموں خریدنے کا معاملہ اٹھایا۔ جس کے جواب میں وزارت دفاع کے پارلیمانی سیکریٹری سید تنویر حسین شاہ نے کہا کہ قواعد کے مطابق پرانے جہاز بیچے جا رہے ہیں اور اس کے لیے پہلے طلب کردہ پیشکشیں مسترد کرتے ہوئے دوبارہ بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جہاز ابھی بیچے ہی نہیں تو سستے داموں بیچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پارلیمانی سیکریٹری نے اس پر اپنا روایتی مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ’ ہم کہتے ہیں کہ ابھی شادی نہیں ہوئی نہ ہی شہنائی بجی لیکن وہ کہتے ہیں دلہن چلی گئی۔‘ ان کے اس انداز پر حب مخالف نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ جس پر سپیکر نے پارلیمانی سیکریٹری کو سنجیدہ انداز اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ جمعہ کے روز بھی بلوچستان کی صورتحال پر بحث جاری رہی اور پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی منظور حسین وسان نے کہا کہ بلوچ اپنا حق مانتے ہیں اور حکمران انہیں مختلف القاب دیتے ہیں ایسا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپنی زمینوں سے گیس اور تیل نکلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت چند ہزار روپے معاوضہ دے رہی ہے جوکہ غلط ہے۔ ان کے مطابق آج بلوچ سراپا احتجاج ہیں اور کل سندھی ہوں گے۔ انہوں نے سوئی میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کرتے ہوئے نام لے کر الزام لگایا کہ کیپٹن حماد ایک کور کمانڈر کے قریبی رشتہ دار ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی جو کہ ان کے مطابق غلط ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||