کالا باغ ڈیم پر واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کالا باغ ڈیم بنانے کو لازمی قرار دیے جانے کے بیان پر حزب اختلاف کے ارکان نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے صدر پاکستان کے بیان کو آئین کی خلاف ورزی اور صوبوں میں اختلافات بڑھانے اور وفاق کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ گزشتہ دو دنوں سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں جہاں حکومتی اتحاد میں غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم سمیت مختلف معاملات پر کھل کر اختلاف رائے سامنے آیا وہاں حزب مخالف بھی تقسیم نظر آرہی تھی۔ لیکن جمعرات کے روز کالا باغ ڈیم کے معاملے پر علامتی واک آؤٹ کے علاوہ پورے سیشن میں صورتحال دو دنوں کے برعکس رہی۔ حکومت اور حزب اختلاف نے اتفاق رائے سے ’مالی ذمہ داری اور حد قرضہ ایکٹ 2003 ‘ کا بل بھی منظور کیا۔ اس بل کے تحت حکومت تیس جون سن دوہزار آٹھ تک محاصل کے خسارے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پابند ہوگی۔ سن دو ہزار تین سے سن دو ہزار تیرہ تک تخمینہ شدہ مجموعی سرکاری قرضہ مذکورہ سال کے لیے مجموعی پیداوار کے ساٹھ فیصد سے تجاوز نہیں کرے گا۔ منظور کردہ بل کے تحت حکومت دس برسوں تک مجموعی ملکی پیداوار کی کم از کم ساڑھے چار فیصد رقم غربت کی کمی اور سماجی ترقی کے لیے خرچ کرنے اور دس برسوں تک صحت اور تعلیم کے اخراجات دوگنا کرنے کی پابند ہوگی۔ متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے بل میں کئی ترامیم پیش کیں جو مسترد کردی گئیں۔ سپیکر نے حزب مخالف اور حکومت کے درمیان تعاون کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ایوان کی آئندہ کارروائی میں بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے بلوچستان کے بارے میں اپنی سربراہی میں قائم کمیٹی کی پیش رفت سے ایوان کو مطلع کیا کہ اکتیس سفارشات میں سے ستائیس پر حکومت اور حزب مخالف میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ متفقہ سفارشات میں تیل اور گیس جس علاقے سے نکلے گی اس کی پیداوار کی قیمت کا بڑا حصہ مقامی علاقے کی ترقی پر خرچ ہوگا اور کوسٹ گارڈ اور فرنٹیئر کنسٹیبلری کا کردار قانون کے دائرہ کار تک محدود کیا جائے گا۔ صوبائی خود مختاری کے متعلق آئینی ترامیم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ سفارشات وسیم سجاد بارہ مارچ تک انہیں پیش کریں گے اور بعد میں ایوان میں لائی جائیں گی۔ ڈاکٹر شازیہ کیس کے بارے میں انہوں نے کہا اسے ’مس ہینڈل‘ کیا گیا اور پاکستان پیٹرولیم کمپنی اس کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا تحقیقاتی کمیشن جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ان کی تقریر سے بلوچستان کی صورتحال پر بحث کا آغاز ہوا اوردونوں جانب کے اراکین نے اس میں حصہ لیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں بلوچستان میں پندرہ سو سے زائد راکٹ فائر ہوئے ہیں جبکہ ایک سو تیرہ بم دھماکے ہوئے اور ریلوے، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کی تنصیبات پر حملے ہوئے اور ایسی صورتحال کبھی نہیں رہی۔ شیری رحمان سمیت حزب محالف کے بیشتر اراکین نے ڈاکٹر شازیہ کے کیس کے حوالے سے اور صوبے میں بڑی تعداد میں فوج اور دیگر فورسز کی تعیناتی کے باوجود بھی امن امان قائم کرنے میں ناکامی پر حکومت پر سخت تنقید کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||