غیرت کے نام پر قتل، بل مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کے ارکان نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک بل رد کردیا ہے۔ پارلیمان نے منگل کے روز اکثریتی ووٹ سے اس بل کو رد کیا ہےاور اسے غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ وزیر قانون وصی ظفر نے پارلیمان کو بتایا کہ گزشتہ دسمبر کے ترمیمی بِل کے بعد تعزیرات پاکستان میں مزید ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حزب اقتدار کی چند خواتین ارکان نے کہا ہے کہ مزید ترامیم پر زور دیتی رہیں گی۔ منگل کے روز پیش کیا جانے والا بل مسلم لیگ کی رکن کشمالہ طارق نے متعارف کروایا تھا۔ یہ قانون سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت باہمی سمجھوتے سے مقتول کے لواحقین قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہوتا آیا ہے جس کے باعث غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بیشتر خواتین وہ ہوتی ہیں جو پسند کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔ کئی مرتبہ جائیداد کے بٹوارے کے خوف سے بھی خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ سال کے دوران چار ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||