لاہور: ’غیرت کے نام پر لڑکی قتل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک لڑکی کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے مبینہ طور پر اسے غیرت کے نام پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اٹھارہ سالہ رابعہ ظفر اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ پولیس کے مطابق غوثیہ کالونی شیرا کوٹ کی رہائشی مقتولہ رابعہ ظفر کے والدین ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ رابعہ ظفر نے اپنے گھر والوں پر واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنی پسند کی شادی کریں گی۔ رابعہ کے والد ظفر اقبال کو ان کی خواہش پر اعتراض نہیں تھا لیکن باقی گھر والے نہیں مانے۔ ظفر اقبال نے اپنے عزیزوں کے عزائم کو بھانپتے ہوئے ڈیڑھ ماہ قبل اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے انہیں مسرت کالونی گلشن راوی میں اپنے ایک دوست سعید کے گھر بھجوادیا تھا۔ رابعہ نے اپنی پسند کی جگہ پر شادی کی تاریخ بھی طے کرلی تھی۔ یہ اطلاع ملنے پر رابعہ کا چھوٹا بھائی حافظ کاشف انہیں ملنے گیا۔ وہ جوس پلانے کے بہانے رابعہ کو گھر سے باہر لے گیا۔ ملزم نے اپنی بڑی بہن سے ان کی شادی کی تاریخ طے ہونے کی تصدیق کر لی تھی۔ اسلامپورہ میں تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس فیصل گلزار کا کہنا ہے کہ ’بعد میں وہی چھوٹا بھائی اپنے دوسرے رشتہ داروں کو ساتھ لیکر آیا اور اپنے والد کے دوست کے گھر میں پناہ گزین اپنی بہن کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد فرار ہوگیا‘۔ پولیس کے مطابق اس قتل میں حافظ کاشف کے علاوہ ان کے چچا، پھوپھا اور کزن بھی ملوث ہیں ۔پولیس نے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے لیکن لڑکی کے بھائی کاشف مفرور ہیں۔ پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پر بڑی تعداد میں خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ انسانی حقوق کمشن کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم ایک ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||