خانیوال، غیرت کے نام پر پانچ قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک گاؤں میں منگل کے روز ایک ڈیڑھ سالہ بچے سمیت پانچ افراد کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے نام منّور مائی، ان کے شوہر مختار احمد چوہان، ڈیڑھ سالہ بیٹا محسن، ساس حفیظاں مائی اور دیور منظور احمد بتائے گئے ہیں۔ جبکہ مبینہ حملہ آوروں میں منور مائی کے تین سگے بھائیوں اور ایک سوتیلے بھائی کا نام لیا جارہا ہے ۔ خانیوال کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر جمیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ افراد کے قتل کی اس واردات کے پیچھے غیرت اور مقدمے بازی سے پیدا ہونے والی رنجش جیسے عوامل کارفرما تھے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منور مائی کے بھائیوں نے سال دو ہزار ایک میں خانیوال کے صدر تھانے میں ایک مقدمہ درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کا کزن مختار ان کی بہن کو اپنی والدہ حفیظاں اور بھائی اختر کی مدد سے ورغلا کر لے گیا ہے جبکہ منور مائی کا نکاح اُن کے ایک اور کزن شہزاد سے ایک برس قبل ہو چکا تھا اور اب صرف رخصتی ہونا باقی تھی۔ پولیس نے تفتیش میں حفیظاں مائی اور اختر کو بے گناہ قرار دیا جبکہ منور مائی اور مختار کو گرفتار کرکے اُن کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد منور مائی نےشہزاد کے ساتھ اپنے نکاح کی تنسیخ کے لئے ملتان کی ایک عدالت سے رجوع کیا۔ سال دو ہزار دو میں مذکورہ عدالت نے منّور مائی کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ اُسی سال منور اور مختار نے شادی کر لی۔ بعد میں خانیوال کی ایک عدالت نے منّور مائی کے بھائیوں کی طرف سے درج کرایا گیا اغوا کا مقدمہ بھی خارج کر دیا۔مقدمے بازی کے دوران منّور اور مختار ملتان میں روپوش رہے تاہم دونوں مقدموں میں فیصلے اپنے حق میں ہوجانے کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں چک بیس ونوئی میں دوبارہ آکر آباد ہوگئے۔ لیکن منور مائی کے بھائی اِس صورتحال سے خوش نہ تھے ۔منگل کے روز منور مائی کے سگے بھائیوں اعجاز، اشفاق، ممتاز اور سوتیلے بھائی ظہور نے اپنے چار دیگرساتھیوں کے ہمراہ منور مائی کے سسرالی گھر پر دھاوا بول دیا اور فائرنگ کرکے پانچ افراد کو موقع پر ہلاک کر دیا۔ ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کے حملہ آور صرف اغوا کے مقدمے سے بری ہونے والے افراد کو مارنا چاہتے تھے اور اسی لئے منور مائی کے سسر نذیر احمد اور مقتول منظورکی بیوی کلثوم اور اُس کے دو بچوں کو زندہ چھوڑ گئے جبکہ یہ سب بھی مارے جانے والے افراد کے ساتھ ایک ہی کمرے میں موجود تھے۔ پولیس نے تینں حملہ آوروں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے تاہم حُکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ منّور مائی کے بھائی گرفتار ہونے والے افراد میں شامل نہیں ہیں اور اُن کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||