غیرت کے نام پر قتل، قانون پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے کارو کاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کے متعلق بل قومی اسمبلی کے بعد منگل کی شب سینیٹ سے بھی حزب اختلاف کے احتجاج اور واک آؤٹ کے بعد منظور کرا لیا ہے۔ غیرت کے نام پر منظور شدہ اس بل میں قاتل کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ حزب مخالف کے اراکین کے علاوہ حکومتی سینیٹر انور بھنڈر نے بھی بل میں قانونی سقم ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے جلد بازی میں منظوری کی مخالفت کی۔ حزب مخالف کے سینیٹر پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون پہلے ہی موجود ہیں ان پر موثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس قانون میں سقم اتنے ہیں کہ اس سے کارو کاری کی رسم کے تحت قتل کو روکنے میں مدد نہیں ملے گی۔ ان کے مطابق قاتل سے صلح کی شق غلط ہے اور اس وجہ سے کسی کو بھی سزا نہیں مل سکے گی۔ حزب مخالف کے سینٹر فرحت اللہ بابر سمیت دیگر کا موقف تھا کہ اس بل کی قانونی کمزوریوں کو ختم کرنے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ بل پر بحث کے بعد جب حکومت نے اسے منظور کرانے کی کوشش کی تو حزب مخالف کے سینیٹرز نے سخت احتجاج کیا اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے حزب مخالف کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک موثر قانون ہے جس سے کارو کاری کے قتل روکنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ قاتل کو معاف کرنے کی شق ختم نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ اسلام کے منافی اقدام ہوگا۔ اس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ملک میں خواتین کے حقوق کے بارے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی مخالفت کی تھی اور اسے ایک ناقص اور نمائشی قانون قرار دیا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کارو کاری کی رسم کے تحت بیشتر واقعات میں خاندان کے قریبی لوگ ملوث ہوتے ہیں اور جب قاتل کے خلاف مقدمہ ثابت بھی ہوتا ہے تو رشتہ کی بنا پر مدعی انہیں معاف کردیتے ہیں اور قاتل سزا سے بچ جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||