وردی و قرآن کی برابری پر ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ میں جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے سے متعلق بل پر بحث کے دوران اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب حکومت کے حامی ایک سینیٹر نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام اور خلفائے راشدین نے بھی دو عہدے رکھے تھے اور وردی کی مخالفت قرآن کی مخالفت ہوگی۔ حکومت کے حامی اور متحدہ قومی موومینٹ کے سینیٹر عباس کمیلی نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام اور خلفاء نے بھی سربراہ حکومت اور فوج کے سپہ سالار کے دونوں عہدے ایک وقت میں اپنے پاس رکھے تھے لہٰذا صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بیان پر حزب مخالف کے اراکین نے سخت احتجاج کیا’نو نو، اور ’شیم شیم، کے نعرے بھی لگائے۔ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر مولانا راحت حسین نے عباس کمیلی پر جوکہ ایک ذاکر بھی ہیں، توہیں رسالت کا الزام لگایا۔ عباس کمیلی کی بات پر حکومت کے حامی اراکین ڈیسک بجا کر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ عباس کمیلی نے حزب مخالف کو چیلنج کیا کہ وہ قرآن کی کوئی آیت یا کوئی حدیث پیش کریں جس میں سربراہ حکومت اور سپہ سالار کے دو عہدے ایک شخص کے پاس ہونے کی ممانعت ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وردی مقدس ہے اور اس کی توہین قرآن کی توہین ہے، وردی کی مخالفت جہاد کی مخالفت ہے۔ عباس کمیلی نے کہا کہ ہر نوجوان کو وردی پہننی چاہئے تاکہ جہاد اور فساد میں فرق رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسا کون سا سیاستدان ہے جس نے فوجی وردی کا طواف نہیں کیا۔ اس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا۔ عباس کمیلی نے کہا کہ اکتیس دسمبر دو ہزار چار تک وردی کو جائز اور حلال قرار دیا گیا ہے تو بعد میں یہ وردی صدر مشرف کے لیے کیوں حرام ہے؟ حزب مخالف کے سینیٹر پروفیسر خورشید نے اپنی تقریر میں صدر مشرف کے بیانات اور ایس ایم ظفر کی کتاب جس میں حکومت اور مجلس عمل کے فوجی وردی کے متعلق معاہدے اور مذاکرات کی تفصیلات کا ذکر ہے، اس کے حوالے دیے۔ انہوں نے کہا اگر اکتیس دسمبر تک صدر مشرف نے معاہدے کے مطابق وردی نہیں اتاری تو مجلس عمل سترویں آئینی ترمیمی بل کو بھی تسلیم نہیں کرے گی۔ ان کا موقف تھا کہ اکتیس دسمبر کے بعد دو عہدے رکھنے کے لیے ’ایکٹ آف پارلیمینٹ، نہیں بلکہ آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل پیش کرنا ہی آئین سے غداری کے برابر ہے۔انہوں نے کہا صدر نے قوم سے وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا اور قرآن کے مطابق وعدہ خلافی کرنا جرم ہے جس کی سزا خدا ضرور دیتا ہے۔ صدر کی وردی کے متعلق بل پر بحث جاری تھی کہ حزب مخالف کے سینیٹر رضا ربانی نے کورم کی نشاندہی کردی۔ اس وقت ایوان میں بہت کم تعداد میں ارکان موجود تھے جس پر چیئرمین سینیٹ نے گنتی کرائے بغیر اجلاس کی کاروائی سنیچر کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔ عام طور پر سنیچر کے روز اجلاس نہیں بلایا جاتا لیکن حکومت کی حکمت عملی سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ سنیچر کو سینیٹ سے یہ بل منظور کرا نے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی، صدر کے دو عہدوں کا بل پہلے ہی پاس کر چکی ہے۔ سینیٹ کی منظوری کے بعد جیسے ہی صدر جنرل پرویز مشرف اس بل پر دستخط کریں گے تو یہ قانون بن جائے گا اور اکتیس دسمبر کے بعد جب تک وہ صدر مملکت ہیں اس وقت تک فوجی وردی میں رہنے کے قانونی طور پر مجاز ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||