سینیٹ میں شدید ہنگامہ آرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں پر فائز رہنے کے معاملے پر ملک کی سینیٹ میں جمعرات کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی برپا ہو گئی البتہ فریقین میں ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس کے آغاز کے بعد حکومت نے صدر کے دو عہدے رکھنے پر بِل منظور کرانا چاہا لیکن حزب اختلاف کی جانب سے بِل کو قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجے جانےکی تحریک پیش کی گئی۔ حکومت نے اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے تحریک مسترد کر دی۔ اس موقع پر ملک کی حزب اختلاف نے ’لوٹا لوٹا‘، ’نو نو‘ اور ’شیم شیم‘ کے نعرے بلند کیے۔ حکومت کی طرف سے وزیر قانون وسیع ظفر نے جب حزب اختلاف پر تنقید کی تو رضا ربانی اور وزیر قانون کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ رضا ربانی اور وزیر قانون اپنی نشستوں سے اٹھ کر لڑنے کی غرض سے آگے بڑھے اور دونوں میں ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ چیئرمین سینیٹ اس صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہے اور نماز ظہر کے وقت سے آدھا گھنٹہ قبل نماز کو عذر بنا کر اجلاس کی کارروائی مختصر وقت کے لیے ملتوی کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||