مشرف فارمولے پر ملا جلا ردعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جموں وکشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے پیش کردہ نئے فارمولے پر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنے آپ کو لبرل جماعت کہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے کھل کر صدر جنرل پرویز مشرف فارمولے کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی اسے مسترد کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اگر صدر جنرل پرویز مشرف کا خطے میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کامیاب ہوا تو ان کی جماعت خیر مقدم کرے گی،۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ جو شخص کارگل جنگ کا نقشہ ساز ہو وہ امن کے لیے مخلص نہیں ہوسکتا۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد نے پارلیمینٹ کی پریس کانفرنس کے دوران صدر مشرف کے فارمولے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے ان پر پچاس برس پرانا پاکستان کا موقف تبدیل کرنے کا الزام لگایا۔ ان رہنماؤں نے صدر کی تجویز کے خلاف ملک بھر میں رائے عامہ قائم کرنے کے لیے مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما چودھری نثار علی خان کا رد عمل بھی مجلس عمل کے رہنماؤں سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ صدر نے کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فرد واحد کے بجائے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان اور کشمیر کے عوام اور پارلیمان کو حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔ کشمیر کی خودمختاری کے دعویدار جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما امان اللہ خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے فارمولے کا محتاط خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قائد اعظم کے بعد دوسرے حکمران صدر مشرف ہیں جنہوں نے کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے خودمختاری کی بھی بات کی ہے،۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بات آج مشرف کہہ رہے ہیں وہ ہی بات ان کی جماعت پچاس برس سے کہتی آرہی ہے کہ دونوں ممالک کو کشمیر کے متعلق ’اٹوٹ انگ‘اور ’شہ رگ‘ ہنے کی پالیسی چھوڑ کر کھلے دل و دماغ سے مذاکرات کی میز پر آنے سے مسئلہ حل ہوگا۔ ان کے مطابق انہیں اس بات پر پاکستان کا غدار کہا گیا لیکن آج جنرل مشرف نے ان کی بات کہی ہے اور اگر وہ کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہوئے تو ان کی جماعت خیر مقدم کرے گی۔ اسفند یار ولی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کو سات حصوں میں تقسیم کی بات سمجھ میں نہیں آئی اور لگتا ہے کہ خود صدر مشرف بھی’کنفیوز، ہیں۔ کشمیر میں شدت پسند کاروائیوں میں ملوث ہونے والے کسی گروہ یا تنظیم جسے وہ جہای تنظیمیں بھی کہتے ہیں ان کی جانب سے تاحال کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کا فارمولہ قابل عمل ہے یا نہیں اس قطع نظر صدر مشرف پاکستان کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے انتہائی دلیرانہ قدم اٹھاتے ہوئے دونوں استصواب رائے کے پاکستان کے پچاس برس پرانے موقف کو ناممکن حل قرار دیا ہے۔ صدر مشرف کے اس بارے میں کیے گئے اعلان پر جہاں ان پر کشمیریوں سے غداری کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہاں ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں بہادر اور حقیقت پسند بھی کہا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||