اعزاز سے بے نیاز، گوجرانوالہ کی بیٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاعر اور ادیب امریتا پریتم کو چھ دن پہلے بھارت کا دوسرا بڑا شہری اعزاز پدم بھوشن دیا گیا تھا لیکن یہ ایوارڈ انہیں ابھی تک موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کی عمر پچاسی برس ہے، وہ ایسی بیمار ہیں کہ بستر سے اٹھ نہیں سکتیں اس لۓ جمعرات کو اعزاز دینے کی تقریب میں وہ قصر صدارت میں نہیں جا سکی تھیں اور یہ اعزازانہیں ڈاک سے بھیج دیا گیا تھا۔ ایک اخبار نے لکھا ہے کہ امریتا پریتم قصر صداررت سے تیس منٹ کے فاصلے پر رہتی ہیں تو آخر کیوں کسی افسر کے ہاتھ اعزاز نہیں بھیجا گیا۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ ان کی عظیم ادبی خدمات سے بے خبر ہوں۔ امریتا پریتم کے ساتھی امروز نے بی بی سی کو بتایا کہ دو دن پہلے وزیر اعظم کے سیکریٹری کا ٹیلیفوں آیا تھا کہ وہ امریتا پریتم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ بتایا گیا کہ وہ اتنی علیل ہیں کہ بات بھی نہیں کرسکتیں۔ جواب میں وزیر اعظم کی طرف سے ایک بہت ہی بڑا گلدستہ ان کے لۓ آگیا جس کے ساتھ ان کی جلد صحت یابی کا پیغام تھا۔مسٹر امروز نے بتایا کہ امریتا پریتم دو مہینے سے علیل ہیں - پوچھا گیا کہ اعزاز ملنے پر ان کا رد عمل کیا تھا تو انہوں نے کہا کوئ رد عمل نہیں تھا کیونکہ رد عمل تو اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی بات کی توقع نہ کررہے ہوں۔ مسٹر امروز نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اعزازات اور انعامات سے بے نیاز رہی ہیں۔ ان کا ایک ناول’ پنجر‘ حال میں ہی بالی ووڈ نے فلم میں ڈھالا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے حالات ’رسیدی ٹکٹ‘ کے عنوان سے لکھے ہیں جو ان کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ کہا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||