غیرت کے نام پر قتل اور اسلامی قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی نے منگل کو تعزیرات پاکستان میں کچھ ترامیم کیں جس کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے والے شخص کو کم از کم دس سال قید اور زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی۔ یہ خبر پڑھ کر ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اس قانون کے آنے سے پہلے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل جائز تھا۔ اس قانون میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملک میں پہلے سے نافذ العمل قصاص و دیت کے قانون کی شقیں بھی غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے میں نافذ ہوں گے یعنی قاتل کو مقتول کے ورثا معاف کر سکیں گے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل تو ضرور ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے قتل کبھی بھی جائز نہیں تھے اور قاتلوں کو ہمیشہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ پاکستانی قانون کے مطابق قتل خواہ غیرت کے نام پر ہوا ہو یا جائیداد کے تنازعے پر اس میں موت کی سزا ممکن ہے۔ پھر حکومت کو ایسا قانون بنانے کی کیوں ضرورت پڑی؟ اس کا جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ سب کچھ سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قصاص اور دیت کے قانون کی موجودگی میں اس قانون کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ کیونکہ اس قانون کی موجودگی میں خاندان کے اندر کیا جانے والا قتل عملآ کوئی جرم ہی نہیں۔ غیرت کے نام پر قتل باپ ، بھائی، شوہر یا قریبی رشتہ دار ہی کرتے ہیں اور وہ مقتولہ کے قانونی وارثوں کے بھی قریبی رشتہ دار ہوتے جو ان کو قصاص اور دیت کے قانون کے تحت معاف کر دیتے ہیں۔ قصاص و دیت کا قانون بھی فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کی باقیات میں سے ایک ہے۔ یہ قانون جنرل ضیا الحق کی قائم کردہ وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کا نتیجے میں بنا۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اسلام میں قاتل خون بہا ادا کرکے ایک آزاد انسان کی زندگی گزار سکتا ہے۔ عدلیہ کے اصرار پر بننے ہونے والے اس قانون کو نافذ ہوئے اب چودہ سال گزر چکے ہیں اور اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں اقدام قتل کی شرح بڑھی ہے کم نہیں ہوئی۔ اس قانون سے فرق صرف یہ آیا ہے کہ اب لوگ اور بے خوف و خطر قتل کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ قانون قاتل کو یہ سہولت مہیا کرتا ہے کہ اگر شواہد سے یہ ثابت بھی جائے کہ قتل اس نے کیا ہے تو اس کے باوجود مقتول کے ورثا کے ساتھ معاہدہ کر کے قاتل آزاد ہو سکتا ہے۔ قصاص اور دیت کے قانون نے، جس کو اسلامی قانون کہا جاتا ہے، قتل کے جرم کی نوعیت کو بدل دیا ہے ۔ قصاص و دیت کے قانون کے 1990 میں نافذ ہونے سے پہلے پاکستان قانون کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا تھا تو وہ ریاست کے خلاف جرم تصور کیا جاتا تھا قصاص اور دیت کے قانون کے مطابق کسی شہری کا قتل ریاست کے خلاف جرم نہیں ہے بلکہ مقتول کے ورثا کے خلاف جرم ہے اور وہ مقتول سے خون بہا لے کر قاتل کو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اس قصاص اور دیت کے قانون کے تحت عملآ فیملی کے اندر قتل اب کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بھائی اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دیتا ہے تو اس کا باپ اور ماں جو مقتولہ کے قانونی وارث ہیں اپنے قاتل بیٹے کو معاف کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی سے چند کلومیٹر دور بارہ کہو کے ذاکر حسین شاہ چھبیس جون 2002 کو اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی صبیحہ کو قتل کر کے موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ ذاکر حسین کو شک تھا کہ اس کی بیٹی کے کسی لڑکے کے تعلقات ہیں۔ پولیس نے واقعہ کی اطلاع پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ قاتل باپ نے چند دن بعد اسلام آباد کی ضلعی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔ پولیس نے جب مقدمہ عدالت میں پیش کیا تو قاتل باپ نے عدالت میں مقتولہ بیٹی کے ورثا کے ساتھ ہونے والا معاہدہ عدالت میں پیش کیا۔ اس معاہدے کے مطابق مقتولہ صبیحہ کے قانونی وارث بھائی اور ماں نے قاتل کو معاف کر دیا ہے۔ عدالت نے پہلی پیشی پر ہی قاتل باپ کو معاف کر دیا جس کو اس کی بیوی اور بیٹے نے معاف کردیا۔ یہ سب کچھ صرف ایک مہینے میں ہو چکا تھا۔ صبیحہ کا قتل ایک واقعہ ہے اور اس طرح کے واقعات پاکستان کی عدالتوں میں بکھرے پڑے ہیں اور اب تو یہ اتنے معمول کے واقعات ہو گئے ہیں کہ اخبار کے رپوٹر نے اس کو خبر تصور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جائیداد کا حق تقویض کر کے بھی عورتوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کئی بھائی جو اپنی بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے وہ ان کو کوئی بہانہ بنا کر قتل کر دیتے ہیں اور مقتولہ کے قانونی وارث جو قاتل کے ماں باپ ہوتے ہیں، معاف کر کے اپنے بیٹے کی جان بچا لیتے ہیں۔ پاکستان میں قصاص اور دیت کا قانون کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ سخت سزا کی وجہ سے ملک میں قتل کی وارداتیں کم ہو جائیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قاتل سب سے پہلے پولیس کے ناقص نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو بری کروانے کے لیے مقدمے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب معاملات عدالت میں پہنچتے ہیں تو عدالتی نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چونکہ قتل کا مقدمہ تین مختلف عدالتوں سے ہو کر ہی کسی نتیجے پر پہنچتا ہے تو اس میں اکثر عشرے گزر چکے ہوتے ہیں۔ اس دوران مقتول کے ورثا پر دھمکیوں، پیسے اور سماجی اثر ورسوخ کے ذریعے قاتلوں کو معاف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے جو اکثر کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگر پاکستان کی حکومت غیرت کے نام پر ہونے والے قتل ختم کرانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس کو قصاص اور دیت کے قانون پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||