’غیرت کے نام پر قتل‘: پانچ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نژاد شفیلیہ احمد کے قتل کی تفتیش کے دوران برطانوی پولیس نے ان کے پانچ رشتہ داروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والے مردو خواتین کو منگل کے روز بریڈفورڈ سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ سترہ سالہ شفیلیہ احمد گزشتہ سال ستمبر میں اپنے گھر غائب ہو گئی تھی اور اس کی لاش تقریباً چھ ماہ میں لیک ڈسٹرکٹ سے ملی تھی۔ عام خیال یہ تھا کہ ہو سکتا ہے شفیلیہ کو’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دیا گیا ہو۔ تفتیش کے دوران پولیس کو شفیلیہ کی کتابوں میں ان کی اپنی لکھی ہوئی ایسی نظمیں ملی تھیں جن میں اس نے اپنی زندگی کے انتہائی تلخ ہو جانے اور بلیچ پینے کا ذکر کیا تھا۔ پولیس نے شفیلیہ احمد کے والدین کو ان کے قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی پاکستان میں کرنا چاہتے تھے جس پر احتجاج کے طور پر شفیلیہ نے پہلے بلیچ پی اور بعد میں پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔ شفیلیہ احمد کے والد افتخار احمد اور والدہ فرزانہ احمد کو اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں دسمبر میں گرفتار کیا گیا لیکن جون میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ افتخار احمد اور شفیلیہ احمد نے اپنی بیٹی کے قتل کے الزام سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر چیف انسپکٹر گیرنٹ جونز کہا کہنا ہے کہ انہوں نے شفیلیہ احمد کے والدین سے ملاقات کر کے انہیں گرفتاریوں سے آگاہ کیا ہے۔ چیف انسپکٹر گیرنٹ جونز کا کہنا ہے کہ وہ شفیلیہ کے والدین کے ان کے قتل میں ملوث ہونے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔ مسٹر جونز کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے شفیلیہ احمد کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ افراد سے قتل کے بجائے مختلف اوقات پر بولے جانے والے مبینہ جھوٹ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ گرفتار ہونے والے افراد میں ایک خاتون اور چار مرد شامل ہیں اور ان سے چیشائر کے تھانے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||