شفیلیہ: والدین مقدمہ کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے شہر وارنگٹن میں پُراسرار حالات میں قتل ہونے والی طالبہ شفیلیہ احمد کے پاکستانی نژاد والدین کا کہنا ہے کہ چیشائر پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں نو ماہ تک حراست میں رہنے والے افتخار احمد اور فرزانہ احمد کو گزشتہ روز ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ سترہ سالہ شفیلیہ احمد گزشتہ سال ستمبر کو اپنے گھر غائب ہو گئی تھی اور ان کی لاش تقریباً چھ ماہ میں لیک ڈسٹرکٹ سے ملی تھی۔ پولیس نے شفیلیہ احمد کے والدین کو ان کے قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی پاکستان میں کرنا چاہتے تھے جس پر احتجاج کے طور پر شفیلیہ نے پہلے بلیچ پی اور بعد میں پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔
والدین کے وکیل ملٹن فرمین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی گرفتاری کے وقت ان کے بارے میں خواہ مخواہ ہی ایک غلط رائے قائم کر لی تھی۔ مسٹر ملٹن فرمین کا کہنا ہے کہ ان کی حراست کے ابتدائی دنوں میں ان سے بہت سخت پوچھ گچ کئی گئی تھی۔ شفیلیہ کے والد کا کہنا ہے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹی کے ساتھ کیا ہوا اور یہ بات ان کے لیے بہت ضروری ہے۔ امید ہے کہ شفیلیہ کے والدین پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے بارے میں باقاعدہ اعلان پیر کے روز کریں گے۔ افتخار احمد اور فرزانہ احمد کی گرفتاری کے وقت عام خیال یہ تھا کہ ہو سکتا ہے شفیلیہ کو ُغیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہو۔ تفتیش کے دوران پولیس کو شفیلیہ کی کتابوں میں ان کی اپنی لکھی ہوئی ایسی نظمیں ملی تھیں جن میں اس نے اپنی زندگی کے انتہائی تلخ ہو جانے اور بلیچ پینے کا ذکر کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||