لاپتہ لڑکی کے زیورات کی شناخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں لاپتہ ہونے والی چشائر کی ایک نوجوان لڑکی کے والدین نے دریائے کینٹ سے نکالی گئی عورت کی لاش سے ملنے والے زیورات کو شناخت کر لیا ہے۔ اس عورت کی لاش چار فروری کو دریا میں ستر کلومیٹر کے فاصلے پر کینڈل کے مقام سے ملی۔ اس سے پہلے علاقہ سیلاب کی زد میں آ چکا تھا۔ شفیلہ احمد کی عمر سترہ برس تھی جب وہ گزشتہ برس گیارہ ستمبر کو وارنگٹن میں واقع اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ شفیلہ احمد کے والدین نے سونے کی ایک چوڑی اور نیلے نگینے والی ایک انگوٹھی کو شناخت کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شفیلے نے والدین کی طرف سے طے کردے شادی کے خلاف احتجاجاً بلیچ پی لیا تھا جس کے نتیجے میں وہ زیر علاج رہی تھی۔
تاہم شفیلہ احمد کی گمشدگی کے بعد برطانیہ کے کسی بھی اسپتال نے ایسی تفصیلات نہیں بتائی تھیں جن سے یہ پتہ چل سکتا کہ وہ کسی اسپتال میں زیر علاج رہی تھیں۔ چشائر پولیس کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں نے دریا کی تہہ میں مزید شواہد تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور دیگر افسران ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے منتظر ہیں۔ تاہم ایک ترجمان کے مطابق قتل کی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریا سے ملنے والی عورت کی لاش کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے اور ڈی این اے کے نتائج سامنے آنے میں دس روز بھی لگ سکتے ہیں۔ کمبریا میں پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ لاش شناخت کے قابل نہیں ہے اور ہلاک ہونے والی اس عورت کی عمر سترہ سے تئیس برس کے درمیان ہے اور اس کا قد پانچ فٹ دو انچ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||