ماں باپ پر قتل کا شبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سترہ سال کی شفیلہ کے والدین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسکی موت میں انکا ہاتھ ہے۔ شفیلہ کی لاش دریائے کیمبرین سے برامد ہوئی ہے۔ پولیس کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ شفیلہ احمد کی لاش کوسیج وک میں چھپایا گیا تھا ۔ شفیلیہ پچھلے سال ستمبر سے لاپتہ تھیں۔ جاسوسبں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ شفیلہ کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے۔کچھ دیر کے بعد شفیلہ کے والدین نے اپنے وکیل کے ذریعے ایک بیان میں کہا کہ اپنی بیٹی کے قتل میں انکا کوئی ہاتھ نہیں۔اور اگر ان پر یہ الزام لگایا گیا تو وہ عدالت میں اپنا دفاع کریں گے۔ شفیلہ کے والدین افتخار احمد اور فرزانہ بھی اپنے وکیل کے ساتھ موجود تھے۔ چیف انسپیکٹر گیرینٹ جونز نے اس سے قبل اس بات پر زور دیا کہ وہ اس قتل کی تحقیقات میں کھلے ذہن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہر پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ شفیلہ پاکستان سے واپس آنے کے بعد سے لاپتہ تھی جہاں اسکے لئے لڑکا پسند کیا گیا تھا۔چیف انسپیکٹر کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسکی لاش کو جان بوجھ کر چھپایا گیا تھا۔ جس علاقے سے شفیلہ کی لاش برآمد ہوئی وہ سیاحوں کے لئے مشہور ہے۔ انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ شفیلہ عزت کے نام پر ہونے والے قتل کا شکار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی تحقیقات ایک عام قتل کے مقدمے کی طرح کر رہے ہیں۔ شفیلہ کے والدین کو دسمبر میں اپنی بیٹی کو اغوا کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||