غیرت کے نام پر ایوان میں جھگڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین غیرت کے نام پر قتل یا ’کاروکاری‘ کی رسم کے معاملے پر آپس میں الجھ گئے۔ حکومتی ارکان ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ ہوگیا اور اسپپیکر نے اجلاس کی کاروائی منگل کی صبح تک ملتوی کردی۔ پیر کی شام حکمران جماعت کے اراکین کشمالہ طارق، گل فرخندہ، گیان سنگھ اور دیگر نے توجہ دلاؤ نوٹس پر صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے ایک جوڑے کو پسند کی شادی کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کا معاملہ ایوان میں اٹھایا۔ حکومت کے حامی اراکین کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی کرنے والوں کو غیرت کے نام یعنی کارو کاری کی رسم کے تحت قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے حکومت سے وضاحت پوچھی کہ ضلع نوشہرو فیروز کے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ وفاقی وزیرنوریز شکور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے اور وہ سندھ حکومت سے بات کریں گے۔ کشمالہ طارق اور دیگر کا کہنا تھا کہ سولنگی برادری کے با اثر لوگ جوڑے کو کارو کاری کی رسم کے تحت قتل کرنا چاہتے ہیں جو کہ ان کے بقول غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کارو کاری کی رسم ختم کرنے کے بارے میں بات شروع کی، جس پر مسلم لیگ کے سندھ سے رکن اسمبلی سردار سلیم جان مزاری نکتۂ اعتراض پر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کارو کاری رسم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کارو کاری کی رسم کے خلاف بات کرنے والوں کو پتہ ہی نہیں کہ یہ رسم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رسم کو ختم کرنے کی بات کرنے کی اجازت دے کر ان کے بقول بے غیرتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سردار سلیم جان مزاری کی طرف سے کاروکاری کا دفاع کرنے پر حکومت اور حزب اختلاف کے کئی اراکین بالخصوص خواتین کھڑی ہوگئیں اور سلیم جان مزاری کے خلاف بولنا شروع کردیا۔ اس دوران سرکاری اراکین ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ایوان میں شدید شور شرابہ اور ہنگامہ ہوگیا۔ حکومت کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے موضوع پر بات کرنے ی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے احتجاجی واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں شور شرابہ بدستور جاری رہا اور جب کسی نے اسپیکر کی بات نہیں سنی تو انہوں نے اجلاس کی کاروائی منگل کی صبح تک ملتوی کردی۔ واضع رہے کہ پینتالیس سالہ غلام مصطفی ٰ اور چوالیس سالہ آمنت جو کہ دونوں سولنگی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہیں ، انہوں نے قتل کی دھمکیوں کے خلاف پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ چند روز قبل پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات نے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا تھا کہ گذشتہ چھ برسوں میں پاکستان کے اندر غیرت کے نام پر 4101 افراد کو قتل کیا گیا جس میں ستائیس سو چوہتر خواتین شامل تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||