غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس انگلینڈ اور ویلز میں قتل کی ایک سو سے زیادہ ایسی وارداتوں کی ازسر نو تحقیقات کر رہی ہے جس کے بارے میں اسے شبہ ہے کہ یہ غیرت کے نام پر کیے گئے تھے۔ محکمۂ پولیس سکالینڈ یارڈ کے سراغ رساں پچھلے دس سالوں میں ہونے والی قتل کی وارداتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان میں سے باون قتل لندن جبکہ پنسٹھ انگلینڈ اور ویلز میں ہوئے تھے۔ قتل کی جانے والی خواتین کی اکثریت کا تعلق برطانیہ میں بسنے والے جنوبی ایشیا کے خاندانوں سے تھا۔ جبکہ کئی عرب دنیا اور مشرقی پورپ سے تعلق رکھتی تھیں۔ مٹروپولیٹن پولیس اس انکوائری کی تفصیلات منگل کے روز دی ہیگ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کرے گی۔ قتل کی ان وارداتوں کے محرکات ایسے تعلقات بھی شامل تھے جن کے بارے میں خاندان والوں کا خیال تھا کہ اس سے ان کی بدنامی ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی وارداتوں میں کرائے کے قاتل ملوث تھے۔ ہیگ میں ہونے والی کانفرنس کا اہتمام یورپول نے کیا ہے جس کا مقصد آگہی پیدا کرنا اور یورپ میں اس جرم سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنا۔ گزشتہ ستمبر میں میٹروپولیٹن پولیس نے ایک تحقیق کروانے کا اعلان کیا تھا جو غیرت کے نام پر قتل کی نفسیات جانے کی کوشش کرے گی۔ یہ فیصلہ ایک کرد مسلمان عبداللہ یونس کو اپنی سولہ سالہ بیٹی کے قتل میں عدالت سے سزا ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔ یونس نے اپنی بیٹی کو ایک شخص سے جنسی روابط قائم کرنے پر قتل کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||