| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افشین مسرت کے والد گرفتار
ملتان میں پولیس نے غیرت کے نام پر مبینہ طور پر قتل ہونے والی طالبہ افشین مسرت کے والد کو گرفتار کیا ہے۔ مسرت پیار کی شادی کے معاملے پر والدین کے ساتھ تنازعہ کے بعد پر اسرار طور پر فوت ہوگئیں تھیں۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ افشین مسرت کے والد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع نے کہا تھا کہ انہوں نے پولیس کے سامنے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے افشین کو اس کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر مارا تھا اور ان کے ساتھ اس جرم میں کوئی دوسرا شریک نہیں تھا۔ تاہم پولیس ان کے اقراری بیان پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھی کیونکہ اس سے قبل وہ تحریری بیان میں کہہ چکے تھے کہ افشین کی موت طبعی تھی اور وہ دمہ کی مریضہ تھی۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہفتے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت کے بعد اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ان تنظیموں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ غیر ت کے نام پر قتل کا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افشین مسرت اپنے خالہ زاد حسن مصطفیٰ کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتی تھی مگر والدین نے بارہ ستمبر سن دو ہزار تین کو اس کی شادی چچازاد نعمان سے کردی جو پاک فضائیہ میں پائلٹ ہے۔ تاہم بعد میں وہ اپنے شوہر کر چھوڑ کر چلی گئیں جس سے اس کے گھر والے سخت نالاں ہوگئے۔ چند ہی روز بعد وہ اپنے گھر پر مردہ پائی گئیں۔ حالانکہ افشین کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہے تاہم عدالتی حکم پر ان کی قبر کشائی کے وقت موجود ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے جسم پر غیر طبعی موت کے نشاں تھے۔ ابتدائی تجزیے کی رپورٹ موصول ہونے پر ملتان پولیس حکام نے افشین کے والد، مسرت حسین، دادا، اللہ دتّا اور دو نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مسرت حسین ساہو حراست میں ہیں۔ پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا ہے اور سات دن کا ریمانڈ حاصل کی ہے۔ افشین کے دادا کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے منگل تک کی ضمانت دے دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||