BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسرت، غیرت اور ہلاکت

غیرت کے نام پر
غیرت کے نام پر عورتوں اور مردوں دونوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ضلع خانیوال میں پیر کو عدالت کے حکم پر کبیر والا کے بااثر خاندان سہو سے تعلق رکھنے والی جس اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی افشین مسرت کی لاش قبر کشائی کرکے نکال کر مختلف اعضاء کیمیائی تجزیے کے لیے بھیجے گئے تھے، منگل کو اس کے پوسٹ مارٹم کے ابتدائی مراحل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افشین کی موت غیر طبعی تھی۔

منگل کو ابتدائی تجزیے کی رپورٹ موصول ہونے پر ملتان پولیس حکام نے افشین کے والد، مسرت حسین، دادا، اللہ دتّا اور دو نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت کے حکم پر قبر کشائی کرکے لاش اس لیے نکالی گئی تھی کہ یہ تحقیقات کی جاسکیں کے افشین مسرت کی پراسرار ہلاکت کن حالات اور اسباب کی بنا پر ہوئی تھی۔

یہ سارا تنازعہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے راشد رحمٰن ایڈووکیٹ کی جانب سے پولیس کو دی جانے والی اس درخواست کے بعد کھڑا ہوا تھا جس میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ افشین ’غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل‘ کا نشانہ بن گئی ہے لیکن اس کی موت کو طبعی قرار دے دیا گیا ہے۔

اس بھیانک کہانی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب کبیر والا کے بااثر خاندان سہو سے تعلق رکھنے والی افشین مسرت نے ملتان کی بہاالدین ذکریا یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنسز میں گریجویشن مکمل کی۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ مسرت افشین اپنے خالہ زاد حسن مصطفیٰ کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتی تھی مگر والدین نے بارہ ستمبر سن دو ہزار تین کو اس کی شادی چچا زاد نعمان سے کردی جو پاک فضائیہ میں پائلٹ ہے۔

شادی کے چند ہی دن کے بعد افشین مسرت اپنے والدین کے گھر واپس آگئی اور اس نے سسرال واپس جانے سے انکار کردیا۔

جب والدین نے اصرار کیا تو افشین مسرت یکم نومبر کو اپنے خالہ زاد حسن مصطفیٰ کے ساتھ، جسے وہ اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتی تھی، راولپنڈی چلی گئی۔

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق افشین اور حسن نے راولپنڈی میں ایک عزیز کرنل عالمگیر کے گھر پناہ لی۔

کرنل عالمگیر کا کہنا ہے کہ وہ چھٹی لے کر کبیر والا پہنچے اور وہاں انہوں نے افشین کے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی بیٹی کی رائے کا احترام کریں۔

مگر افشین کے والد مسرت حسین، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، کرنل عالمگیر کے گھر جاپہنچے اور اصرار کیا کہ افشین کو ان کے حوالے کیا جائے۔

اس اصرار پر کرنل عالمگیر نے افشین کو فوج کے اپنے ایک ساتھی اور افشین کے والد مسرت حسین کے قریبی رشتہ دار کرنل خالد سہو کے حوالے کردیا۔

آٹھ نومبر کو مسرت حسین اپنی بیٹی کو لے کر ملتان آگئے اور دس نومبر کی شب افشین تھانہ گلگشت کی حدود میں واقع گلشن مہر کالونی کے اپنے گھر میں مردہ پائی گئی۔

افشیین کی لاش کو اگلے ہی روز ماڑی سہو کے آبائی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

غیرت
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتی عام ہیں۔

راولپنڈی سے واپسی کے بعد اچانک افشین کی انتہائی پراسرار حالات میں ہلاکت نے کئی سوالات کو جنم دیا جن کا جواب افشین کے اہل خانہ مختلف انداز سے دیتے رہے۔

کسی کا کہنا تھا کہ افشین دل کے دورے سے ہلاک ہوئی تو کسی نے بجلی کا جھٹکا لگنے کو اس کی موت کی وجہ قرار دیا۔ جبکہ بعض دیگر افراد کا کہنا تھا کہ افشین کو سانس کا عارضہ لاحق تھا۔

ان ہی پراسرار حالات میں ہونے والی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے انسانی حقوق کمیشن کے راشد رحمٰن ایڈووکیٹ نے گلگشت پولیس کو درخواست دی تھی جس میں افشین کی ہلاکت پر قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

لیکن جب پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تو انسانی حقوق کمیشن کے ایک وفد نے پندرہ نومبر کو ملتان پولیس کے سربراہ حامد مختار گوندل سے ملاقات کی۔

پولیس کے ضلعی سربراہ نے درخواست کارروائی کی غرض سے تھانے کو بھجوا تو دی لیکن ساتھ ہی تبصرہ بھی کیا کہ قصاص و دیت کے قانون کے تحت ورثاء کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

اس سلسلے میں ملتان پولیس سے کسی قسم کی مدد سے مایوس ہوکر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سربراہ اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی نمائندۂ خصوصی عاصمہ جہانگیر نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو اس مبینہ قتل کی واردات سے آگاہ کیا اور کارروائی کی درخواست کی۔

وزیر اعلیٰ کو بھیجے جانے والے خط میں عاصمہ جہانگیر نے الزام عائد کیا کہ فوج کے بعض اعلیٰ افسران اور خانیوال سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر مملکت ان ملزمان کی سرپرستی کررہے ہیں جن پر افشین کے قتل کا شبہ ہے۔

ابھی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کا انتظار ہی تھا کہ لاہور کے ایک بزرگ صحافی نے ایک بھری محفل میں صدر جنرل پرویز مشرف کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جس کے بعد ایوان صدر سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ’غیرت کے نام پر ہونے والی قتل کی وارداتوں‘ کی مذمت کی گئی اور افشین مسرت کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خانیوال نے افشین کی قبر کشائی اور لاش کے مختلف اعضاء کے کیمیائی اور دیگر تجزیے کے ذریعے موت کے اسباب و عوامل کی تحقیقات کا حکم دیا۔

عدالت کے حکم پر پیر کو کیمیائی اور دیگر تجزیے کے لیے قبر کشائی کرکے جب افشین کی لاش نکالی گئی تو اس موقع پر خانیوال پولیس کے ضلعی سربراہ (ڈی پی او) ڈاکٹر جمیل، ایک خاتون ڈاکٹر سمیت ڈاکٹروں کی چار رکنی ٹیم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

افشین کے رشتہ دار اس کی قبر کی نشاندہی پر تیار نہیں تھے لہٰذا حکام کو قبر کی نشاندہی کے لیےگورکن اور لاش کی شناخت کے لیے تحصیل کبیر والا کی خاتون کونسلر زیب النساء کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ خاتون کونسلر زیب النساء نے لاش کو غسل دیا تھا۔

تاہم اس موقع پر موجود بورڈ کے ارکان ڈاکٹرز حضرات نے یہ کہہ کر کوئی رائے دینے سے انکار کردیا کہ لاش کے اعضاء کے تجزیے کا نتیجہ آنے تک کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے راشد رحمٰن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر خانیوال کی بجائے ملتان میں بورڈ قائم کیا جاتا تو بہتر ہوتا کیونکہ ان کے خیال میں خانیوال میں قائم بورڈ پر اثر انداز ہواجاسکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ افشین کی موت کا اصل سبب کیمیائی تجزیے کا حتمی نتیجہ آنے پر ہی معلوم ہوسکے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد