BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 23:30 GMT 04:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قوانین کے ساتھ ذہنیت بدلنے کی ضرورت

News image
افشیں مسرت کے قتل کا الزام ان کے والد پر ہے
جنرل پرویز مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالنے سے لے کر اب تک خواتین کے حقوق سے بارہا حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ملکوں کی خواتین اول کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے یقین دلایا کہ حکومت خواتین کے حقوق کی پاسدار ہےاور یہ کہ غیرت کے نام پر ہونے والے خواتین کے قتل کا سلسلہ نا قابلِ برداشت ہے۔

جس روز ان کا یہ بیان شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوا اُسی روز غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے متعدد واقعات بھی سرخیوں میں تھے۔

جنوبی پنجاب کے ڈیرہ غازی خان کے نواحی قصبہ سخی سرور میں ایک بھائی محمد رفیق نے اپنی حاملہ بہن سداراں اور اس کے شوہر صابر حسین کو صرف اس لئے قتل کر دیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے ملزم نے کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔

اسی طرح بہاول نگر کے ایک گاؤں جنڈوال میں ایک شخص شاہد اقبال نے کلہاڑی کے وار کرکے اپنی ایک بہن نسیم کو موت کی نیند سلادیا اور دوسری بہن عظمٰی کو شدید زخمی کردیا۔ ملزم کو شبہ تھا کہ اسکی بہنیں علاقے کے دو نوجوانوں سے مراسم رکھتی تھیں۔

شاید ہی کوئی ایسا دن ہوگا جب اخبارات میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی واردات کا ذکر نہ ہو۔

چند روز قبل ملتان ہی کے گاؤں سبحان پور میں سولہ سال کی پروین کو اس کے بھائی جعفر نے اس روز قتل کر دیا جب ان کے بھائی ناصر کی شادی ہو رہی تھی۔ ابتدا میں پروین کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ شادی کی خوشی میں کی جانے والی فائرنگ کے نتیجہ میں پروین حادثاتی طور پر ہلاک ہو گئی۔ تاہم بعد میں ملزم جعفر نے اقبالِ جرم کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کا چال چلن خاندان کے لئے بدنامی کا باعث بن چکا تھا۔

اس حوالے سے جب پاکستان انسانی حقوق کے راشد رحمانی ایڈوکیٹ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے جنرل مشرف کے بیانات اپنی جگہ لیکن حالیہ برسوں میں صورتِحال سنورنے کے بجائے مزید بگڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کے جہاں ملکی قوانین میں مناسب رد و بدل کی ضرورت ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ذہنی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ وہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کو سنجیدگی سے لیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد