| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’غیرت کےنام پر قتل ہوا‘
پاکستان میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ محبت کی شادی کرنے والے جوڑے شازیہ خشخیلی اورمحمد حسن سولنگی کو غیرت کے نام پر قتل کیاگیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر امیر شیخ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس جوڑے کا قتل کسی جرگے کے فیصلے کی روشنی میں نہیں ہوا بلکہ لڑکی کے خاندان نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد نے گزشتہ ہفتے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج سانگھڑ کو حکم دیا تھا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرکے ایک ہفتے کے اندر، یعنی پچیس اکتوبر کو سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریں۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق خشخیلی خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انیس سالہ شازیہ بینک افسر میر حسن خشخیلی کی سات بیٹیوں میں سےایک تھی۔ اس کی شادی سات ماہ پہلے حضوربخش کے ساتھ ہوئی۔ شازیہ اس رشتے سے ناخوش تھی اور وہ محمد حسن سولنگی جو ان کے پڑوس میں ڈرائیور کی نوکری کرتا تھا کے ساتھ فرار ہو گئی، اور کراچی جاکر شادی کر لی۔ پولیس افسر کے مطابق محمد حسن سولنگی پہلے سے شادی شدہ اور دو بچیوں کا باپ تھا۔ لڑکی کے باپ نے ان کے قتل کے تین دن پہلے اپنی بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کرائی تھی ۔ سانگھڑ کے سیشن جج نے اپنی رپورٹ میں شازیہ کے والدین کے اس دعوے پر شک کا اظہار کیاکہ اس کی شادی سات مہینے پہلےہو چکی تھی اور کہا کہ یہ دعویٰ ٹھیک نہیں لگتا۔ سیشن جج کے مطابق جب خشخیلی خاندان سے کہا گیا کہ وہ نکاح نامہ پیش کریں تو انہوں نے ایک فوٹو کاپی پیش کی جس کے مطابق شازیہ حضور بخش کی بیوی ہے، لیکن سیشن جج کے مطابق وہ اصلی نکاح نامہ پیش کرنے سے قاصر رہے۔ ڈسٹرکٹ سیشن جج نےشازیہ کے دستخطوں پر بھی شک کا اظہار کیاہے۔ جج نے کہا کہ جب اس نے اس تعلیمی ادارے سے جہاں شازیہ پڑھتی تھی ، ریکارڈ منگوایا تو اس کے مطابق لڑکی غیر شادی شدہ ہے۔ محمد حسن سولنگی کے والد نے سیشن جج کو بتایا کہ اس کو اپنے بیٹے کے قتل کی خبر اخبار کے ذریعے ملی اور جب اس نے اپنے بیٹے کی لاش لینے کے لیے پولیس کے پاس گیا تو اس کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سیشن جج نے اپنی رپورٹ میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اور تجویز کیا کہ لاشوں کا ایک دفعہ پھر سے معائنہ ہونا چاہیۓ۔ سیشن جج کے مطابق شواہد اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جب دونوں خاندانوں نے مرنے والوں کو علحیدہ کرنے کے لیے زور ڈالا گیا لیکن ان کے انکار کرنے پر ان کو مار دیا گیا۔جج نے عدالت عظمی کو مشورہ دیا کہ کسی اچھی شہرت والے پولیس افسر کے ذریعے اس کی نئے سرے سے انکوئری ھونی چاہیۓ تاکہ تمام ملزموں کی نشاندی ھو سکے۔ جب عدالت عظمی کو بتایا گیا کہ سندھ انسپکٹر جنرل نے ڈی آئی جی حیدرآباد مشتاق احمد شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے تو عدالت نے مقدمے کی سماعت ایک مہینے تک ملتوی کر دیا اور حکم دیا کہ ایک ماہ کے اندر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||