| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ: غیرت کے نام پر قتل
برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ میں ایک باپ کے ہاتھوں اس کی بیٹی کے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی مذمت کرتے ہیں۔پیر کے روز عراق سے تعلق رکھنے والے ایک کرد شخص عبداللہ یونس پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی۔ یونس نے اپنی سولہ سالہ بیٹی ہیشو یونس کو ایک عیسائی شخص کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بنیاد پر گزشتہ برس اکتوبر میں قتل کردیا تھا۔ عبداللہ یونس نے دس سال قبل برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔ برطانیہ میں’مسلم کونسل آف برٹن‘ یا MCB کے عنایت اللہ بنگلہ والا کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کی عکاسی نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہیشو کے مذہبی روایات سے باغی ہونے پر اس کے باپ کے کیا تاثرات ہوسکتے ہیں، تاہم وہ عبداللہ یونس کو اپنی بیٹی کو قتل کرنے پر معاف نہیں کریں گے۔ ’یہ قابلِ افسوس ہے کہ ہیشو کی تربیت ایسی ہوئی کہ اس نے اپنی روایات اپنانے کے بجائے کسی اور کے طرزِ زندگی کو اپنایا۔ تاہم بہت سے مسلمان اس امر پر غیر مطمئن ہیں کہ اس معاملے میں اسلام کے نام کو کس طرح استعمال کیا گیا۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنی ہی بیٹی کو قتل کردیا جائے‘۔ عنایت اللہ نے یہ تسلیم کیا کہ برطانیہ میں اسلامی طرزِ زندگی اور مغربی طور طریقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اور یہ کہ بیشتر مسائل کا تعلق لوگوں کے درمیان جنسی اور دیگر تعلقات سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ آیا ان کے بچے مغربی ماحول میں تربیت پاکر اسلامی روایات کا خیال رکھ سکیں گے یا نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار میں دنیا بھر میں ہر روز غیرت کے نام پر کم از کم تیرہ قتل ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||