BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 December, 2003, 19:11 GMT 00:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرت کے نام پر عورت کو پھانسی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حافظ آباد کے ایک گاؤں میں میں منگل کو ایک پچیس سالہ شادی شدہ عورت کو گلے میں پھندہ ڈال کر قتل کردیا گیا۔ لڑکی کی ماں نے اپنی بیٹی کے سسر اور اس کے ساتھیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے غیرت کے نام پر اس کی لڑکی کو قتل کردیا۔

یہ واقعہ حافظ آباد میں پنڈی بھٹیاں کے قصبہ سے سات کلومیٹر دور پیش آیا۔ تھانہ پنڈی بھٹیاں کے محرر فضل عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ پچیس سالہ ساجدہ پروین کے قتل کی ایف آئی آر (نمبر چھ سو چھیانوے) اس کی ماں فاطمہ بی بی زوجہ نصراللہ قوم بھٹی نے درج کرائی ہے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ لڑکی کے سسر خان محمد اور اس کے بھائی امانت نے اپنے ساتھیوں جہانگیر اور یاسین سے مل کر اس کی لڑکی کاگلا دبایا اور رسی اس کے گلے میں ڈال کر اسے چھت سے لٹکا دیا۔

ایف آئی آر میں ساجدہ (مقتولہ) کی ماں نے کہا ہےکہ لڑکی اپنے کمرے میں سو رہی تھی جب صبح چار بجے کے قریب ملزمان اس کےکمرے میں داخل ہوگئے اور انہوں نے اس پر تشدد شروع کردیا۔ اس پر ساجدہ نے شور مچایا اور ارد گرد کے لوگ وہاں جمع ہوگئے جنہوں نے اسے چھڑانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے لوگوں کو بھگا دیا۔

ساجدہ کی ماں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے دیکھا کہ ملزموں نے لڑکی کا گلا دبایا اور اسے رسی سے چھت کے آہنی شہتیر سے لٹکا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مقتول لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ ساجدہ کی شادی چار سال پہلے اسی گاؤں کے محمد نذیر سے ہوئی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ساجدہ نے اپنی سسرال کی زیادتیوں سے تنگ آکر نکاح کی تنسیخ کا دعوی جڑانوالہ میں کر رکھا تھا جہاں وہ چند ماہ پہلے اپنے والد کے رشتےداروں کے ہاں چلی گئی تھی۔ یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا۔

تاہم چند روز پہلے ساجدہ کو اس کے سسرل والے منت سماجت کرکے واپس اپنے گاؤں لے آئے تھے۔

مقامی افراد واقع کو ذرا مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سسرال والوں نے ساجدہ کو سات روز سے ایک کمرے میں بند رکھا ہوا تھا اور منگل کو کمرہ بند دیکھ کر جب پولیس کو بلوایا گیا تو پتا چلا کہ اسے پھانسی دے دی گئی ہے اور ملزمان فرار ہوگئے ہیں۔ مقامی افراد کےمطابق ساجدہ کی ماں نے اللہ دتہ پر اغوا کا مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔

مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ساجدہ اپنے بہنوئی اللہ دتہ کے ساتھ چلی گئی تھی جس پر اس کی سسرال والے ناراض تھے اور سمجھتے تھے کہ اس سے ان کی بے عزتی ہوئی ہے۔

ساجدہ کی لاش کا پنڈی بھٹیاں تحصیل کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تاہم تمام نامزد ملزم ابھی تک مفرور ہیں۔

ملتان میں افشین مسرت کے قتل کے بعد ایک ماہ میں یہ غیرت کےنام پر کسی عورت کے قتل کا پنجاب میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے مطابق پنجاب میں پچھلے سال دو سو اٹھہتر عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی گئیں جن میں دو سو اکہتر جوان عورتیں اور باقی کم سن لڑکیاں تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد