| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پریمی قتل: عدالت کی ازخود کارروائی
پاکستان سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں محبت کی شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی کے قتل کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمٰی نے سیشن جج سانگھڑ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرکے پچیس اکتوبر کو سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریں۔ تفصیلات کے مطابق اس ماہ کی پانچ تاریخ کو لڑکے اور لڑکی نے کراچی جاکر شادی کرلی اور اس کا اعلان اخبارات میں کردیا۔ جبکہ مقامی تھانے میں لڑکی کے اغوا کی رپورٹ درج کر دی گئی۔ جس پر یہ دونوں سات اکتوبر کو تھانے میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ دونوں قانونی طور پر میاں بیوی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دنوں کو اگلے روز تھانے آنے کو کہا گیا اور جب اگلے دن وہ تھانے میں پیش ہونے آ رہے تھے تو انہیں راستے میں اغوا کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس نے گاڑی کا پیچھا کیا مگر شہر سے باہر لڑکی اور لڑکے کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق جس گاڑی میں دونوں کو اغوا کیا گیا تھا اس میں لڑکی کے والد اور ایک دوسرا شخص سوار تھا۔ لڑکی کے والد نے بعد میں بیان دیا کہ انہوں نے دونوں کو معاف کر دیا تھا تاہم ان کی برادری نے معاف نہیں کیا۔ حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عام طور پر محبت کی شادی کو پسند نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے محبت کی شادی کرنے والے اکثر کہیں چھپ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل گورنر سندھ نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کو قتل عمد قرار دیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||