غیرت کے نام پر قتل پر نیا بل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت ایک نیا بل پیش کر رہی ہے جس کے تحت غیرت کے نام پر قتل کی سزا بڑھا دی جائے گی۔ خواتین کی ترقی کے بارے میں وزیرِ اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ترمیم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کو بھی ایک قتل کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کی سزا وہی ہو گی جو قتل کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے یہ قتل غصے اور بڑھکانے کے زمرے میں آتا تھی اور لوگوں کو اس میں چھوٹ مل جاتی تھی۔ ’اب جب یہ قتل کے اندر آ جائے گی تو اس میں چھوٹ کی گنجائش کم رہ جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز انسانی حقوق کی کانفرنس میں صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ’غیرت کے نام پر قتل بھی ایک قتل ہے اور اسے اسی طرح ہی لینا چاہیئے‘۔ نیلوفر بختیار نے کہا کہ دوسری تبدیلی ہم اس بل کے ذریعے یہ لائیں گے کہ قتل کی سزا کم از کم 14 سال ہو اور اگر کسی کوزخمی کیا گیا ہو یعنی ناک، کان، زبان یا کوئی اور اعضاء کاٹ دیا گیا ہو تو اس پر بھی کڑی سزا رکھی جائے۔ ’اسی طرح اقدامِ قتل پر سزا رکھ رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ بل مکمل ہو کر وزارتِ قانون اور پارلیمانی امور میں جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد یہ بل کابینہ کے سامنے پیش ہو گا اور اگر کابینہ نے اسے منظور کیا تو پھر اسے اسمبلی میں بحث کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نیلوفر بختیار نے کہا کہ اس بل میں بڑی پیش رفت یہ ہے کہ اسے سب جماعتوں کی خواتین کی حمایت حاصل ہے اور ان کی رضامندی سے اس بل کو پیش کیا گیا ہے۔ بل کی مخالفت کے بارے میں وزیرِ اعظم کی مشیر نے کہا کہ ہم نے اسے سب کو دکھایا ہے اور سب نے اسے منظور کیا ہے۔ ’ہم آہستہ آہستہ کام کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں اپنی جماعت میں ہی چند افراد کی طرف سے مخالفت کا خدشہ تھا لیکن جب پارٹی کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اسے دیکھا اور اس کی حمایت کی تو پھر سب نے اسے منظور کیا کر لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||